← back to sabr · Khuda ki Daryaft

كائنات بول رهي هے

Khuda ki Daryaft — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (165 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دیباچہ
  3. خدا کی دریافت
  4. فلسفيانه تلاش كي ناكامي
  5. صحیح طریقِ کار
  6. گلیلیو گلیلی
  7. الکسس کیرل کا تبصرہ
  8. ايمان بالغيب
  9. کائنات کی توجیہ
  10. خلّاق علیم
  11. بگ بینگ، لٹل بینگ
  12. چھ بينگ
  13. بگ بینگ، ایک منظم واقعہ
  14. ایک تقابل
  15. بے نقص کائنات
  16. زیرو ڈفکٹ کائنات
  17. خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
  18. ایک علمی ملاقات
  19. خدا کا وجود
  20. سائنس كي واپسي
  21. سائنس سے معرفت تک
  22. معرفت کے دو درجے
  23. سائنس کی شہادت
  24. سائنس اور عقیدۂ خدا
  25. فائن ٹیوننگ
  26. تبصرہ
  27. خدا اور آخرت
  28. با معنٰی کائنات
  29. سائنسی ثبوت
  30. تین علمی اصول
  31. امید کی کرن
  32. تضاد کا خاتمہ
  33. آغاز کی تکمیل
  34. درست فریم ورک
  35. اطمینان بخش توجیہ
  36. جنت کی حقیقت
  37. فطرت کا حصہ
  38. جديد سائنس
  39. وحي والهام
  40. علم كا سفر
  41. سائنس توحيد كي طرف
  42. اختيار اور بے اختياري
  43. طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق
  44. كائنات اتني يكساں كيوں
  45. كياكوئي زڈ ذره هے
  46. ڈي اين اے سے پهلےكيا تھا
  47. جين كس طرح متحرك اورغير متحرك هوتے هيں
  48. همارے اندر مدافعتی نظام كيوں
  49. ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں
  50. نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے
  51. كوانٹم نظريه كيا كشش كےنظريے پر بھي چسپاں هوتاهے
  52. دماغ كے مختلف حصےكس طرح رابطه قائم كرتےهيں
  53. انسان كب سے زمين پر هے
  54. تبصره
  55. علم كى شهادت
  56. خدا سب سے بڑی حقیقت
  57. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  58. خدا كا تصور
  59. مخالفينِ مذهب كا استدلال
  60. كائنات بول رهي هے
  61. حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں
  62. سائنس اور الٰہیات
  63. وضاحت
  64. عقلی موقف
  65. ذہین کائنات
  66. دو انتخاب(options)
  67. واحد انتخاب
  68. منطقی استدلال
  69. انتخابی منطق
  70. مجبورانہ منطق
  71. انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
  72. خلائی مشاہدہ
  73. زمین ایک استثنا
  74. سَفرِنگ کا مسئلہ
  75. غلط ریفرنس میں مطالعہ
  76. تقابلی مطالعہ
  77. سائنٹفک مطالعہ
  78. خدا کا تخلیقی پلان
  79. کائناتی معنویت کی توجیہ
  80. وقت کا شعور
  81. زَوجین کا اصول
  82. آئڈیل ازم کی ناکامی
  83. دنیا کا خاتمہ
  84. خدا اور سائنس
  85. عقیدۂ خدا اور سائنس
  86. خدا کا وجود
  87. خدا کو کس نے پیدا کیا
  88. ریاضیاتی ذہن
  89. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  90. اللہ کی رؤیت
  91. كون كنٹرول كرے
  92. حکمت ِ تخلیق
  93. تاريخ كے فكري مغالطے
  94. استدلال كي بنياد
  95. ڈارونزم کا نظریہ
  96. ہیومنزم کا نظریہ
  97. خاتمه
  98. خدا کا فلسفیانہ تصور
  99. خدا كا ثبوت
  100. كائنات ميں خدا كي گواهي
  101. ذهين كائنات
  102. زمین، ایک نشانی
  103. معنی خیز استثنا
  104. کائناتی نشانیاں
  105. کویزار ايك ارب سورج سے بھي زياده روشن
  106. عقيدهٔ خدا اور سائنس
  107. دریافت کی اہمیت
  108. كائناتي وحدت
  109. خدا كي عظمت
  110. عقيدهٔ خدا
  111. خدا اور انسان
  112. ناقابلِ توجيه
  113. انسانی دماغ
  114. يه محكم نظام
  115. جواہر لال نہرو کا بیان
  116. كائنات كي نشانياں
  117. انسان کی بے اختیاری
  118. انسان کے لیے سبق
  119. میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں
  120. حفاظتي ڈھال
  121. خلاصهٔ كلام
  122. کائنات ایک آئینہ
  123. رياضياتي دنيا
  124. كائنات اورانسان
  125. توازنِ فطرت
  126. نيم كا معجزه
  127. تخليق ميں ذهانت
  128. ذره بھي غائب نهيں
  129. زمين الله كي عجيب وغريب نعمت
  130. سائنس کی گواہی
  131. مشيني ذهانت
  132. ایک مثال
  133. كائناتي مشين
  134. مشيني تعبير
  135. بے خطا نظام
  136. ريموٹ كنٹرول
  137. برتر ہستی کا تصور
  138. فطرت كي آواز
  139. فلم ایکٹرس
  140. جوزف اسٹالن
  141. اسٹالن کی بیٹی
  142. ایک روسی پائلٹ
  143. میخائل گوربا چیف
  144. رچرڈ نکسن
  145. برٹرينڈ رسل
  146. خدا كي نشانياں
  147. حقيقت كي تلاش
  148. مذهب كي طرف واپسي
  149. تبصره
  150. معبود كي طلب
  151. خدا كي موجودگي كا تجربه
  152. انكار سے اقرار تك
  153. تبصره
  154. فطرت كي پكار
  155. ڈارون کا اعتراف
  156. برتر ہستی کی تلاش
  157. خلائي تهذيب
  158. ایلین کی تلاش
  159. بامعني كائنات
  160. ماورائے انسان ذهانت
  161. سب سے بڑا المیہ
  162. جس زندگي كي هميں تلاش هے
  163. توحيد كا تصور اسلام ميں
  164. توحيد كي عملي اهميت
  165. توحيد كا عقيده اور انسان

كائنات بول رهي هے p. 134

كيرالا كے عيسائي مشن نے ايك كتابچه شائع كيا هے جس كا نام هے p. 134

Nature and Science Speak about God p. 134

اخباري سائز كي اس 28 صفحے كي كتاب ميں كائنات كے متعلق سائنسي دريافتوں كے حوالے سے يه واضح كيا گيا هےكه خدا كا وجود ايك حقيقت هے اور اسے كسي طرح جھٹلايا نهيں جاسكتا— ’’بچھو،بھڑاور اسي طرح كے بهت سے دوسرے پاني اور خشكي كے جاندار هيں جو ڈنك مار كر دشمن كا مقابله كرتے هيں يا شكار كو قابو ميں لاتے هيں۔ ان كے ڈنك كي نوك پر ايك نهايت چھوٹا سوراخ هوتا هے جس كے ذريعے وه ايك قسم كا زهر اپنے دشمن كے جسم ميں داخل كرديتے هيں۔ يه سوراخ اگر ڈنك كے بالكل سرے پر هوتا تو ڈنك چبھوتے وقت سوراخ بند هوجاتا۔ اس كے علاوه خود چبھونے ميں ڈنك زياده اچھي طرح كام نه كرتا۔ يهي وجه هے كه ڈنك كي نوك كا سوراخ هميشه ذرا سا ترچھا هوتا هے۔ ٹھيك اسي طرح جيسے ڈاكٹر كي سرينج (syringe) ميں هوتا هے۔‘‘ يه ايك بهت چھوٹي سي مثال هے۔ اسي طرح جس چيز كو ديكھيے اس كے اندر ايك نهايت ذهين نقشه سازي نظر آئے گي۔ كائنات كوڑا كركٹ كا ايك بے ترتيب انبار نهيں هے، بلكه اس كے اندر زبردست مقصديت اور نظم پايا جاتا هے۔ كيا ايك شعور ي منصوبه بندي كے بغير ايسا هوسكتا هے۔ p. 135

ديمك اپنے قدكے مقابلے ميں هزار گنا بڑا مكان بناتے هيں۔ اگر هم اپني جسامت كي نسبت سے اتنا بڑا مكان بنائيں تو هم كو ايك ميل سے بھي زياده اونچي تعمير كرني پڑے گي۔ ديمك لكڑي ميں ره سكتے هيں اور اسي كے اندر اپنے مكانات تراشتے هيں، ان كي زندگي كے مطالعے سے بے شمار حيرت انگيز واقعات سامنے آئے هيں۔ صرف ايك مثال ليجيے۔ ديمك لكڑي كو كھاتے هيں۔ پتھر كے بعد لكڑي تمام معلوم چيزوں ميں سب سے زياده عسير الهضم (indigestible)هے۔ مگر ديمك كے ليے يه كوئي مشكل كام نهيں۔ وه اس مقصد كے ليے مخصوص جبڑے ركھتے هيں جو آرے كا كام دينے كے ساتھ ساتھ پيسنے كا كام بھي كرتے هيں۔ تاهم لكڑي خواه كتني هي پيس ڈالي جائے، وه بهر حال لكڑي هي رهے گي، اور پيٹ ميں جاكر غذا كي ضرورت پوري كرنے كے بجائے صرف بدهضمي پيدا كرے گي۔ پھر كيا چيز هے، جو ديمك كي مدد كرتي هے۔ اس كام كے ليے ديمك كي آنتوں ميں نهايت چھوٹےچھوٹے خوردبيني كيڑے موجود هيں۔ يه كيڑے نگلي هوئي لكڑي پر مخصوص عمل كركے اس كے اندر ايسي تبديلياں پيدا كرديتے هيں كه وه هضم هو كر جزءِ بدن هوسكے۔ يه حيرت انگيز انتظام كون كرتاهے۔ p. 135unverified

مرغي كے انڈے پر غور كيجیے۔ هر ايك انڈے ميں سات ايسي مختلف خصوصيات پائي جاتي هيں، جو اتني اهم هيں كه ان ميں سے ايك بھي اگر نه هو تو انڈا، انڈا نه رهے گا — چونے كا خول،خول كے اندر مسامات جو هوا كو گزرنے كا راسته ديتے هيں، پتلي جھلي جو اَستر كي طرح چاروں طرف هوتي هے، زردي اور سفيدي جو خول كےاندر بچے كي غذا هيں، بچے كا جرثومه، تار جو جرثومے كو صحيح رُخ پر باقي ركھتے هيں۔ان ميں سے كسي ايك چيز كو انڈے سے الگ كرديجيے، اور انڈا كبھي بھي چوزے كي پرورش گاه نهيں بن سكے گا۔ كيا يه سات مختلف چيزيں محض اتفاق سے يكجا هوگئي هيں۔ ’’اتفاق‘‘ ان سات مختلف چيزوں كي موجودگي كي تشريح نهيں كرسكتا، جو ٹھيك اور بالكل صحيح حالت ميں پائي جارهي هيں۔ اس سے زياده عجيب بات يه هے كه اتفاق سے صرف يهي چيزيں كيوں اكھٹا هوئيں۔ كيوں نه درخت كي پتّي ، كوئي لكڑي، پتھر كا ايك ٹكڑا اور اس طرح كي هزاروں چيزيں جن كا موجود هونا ممكن تھا، خول كے اندر آگئيں، جن ميں سے كوئي ايك چيز بھي اگر وهاں هوتي تو وه سارے انڈے كو برباد كرديتي۔ سب سے زياده عجيب بات يه هے كه جب مرغي كا بچه اس قابل هوجاتا هے كه انڈے سے باهر نكلے، اس وقت اس كي چونچ پر ايك چھوٹي سي سخت سينگ ظاهر هوتي هے۔ اس كي مدد سے وه اپنے خول كو توڑ كر باهر آجاتا هے۔ سينگ اپنا كام پورا كركے بچے كي پيدائش كے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتي هے۔ p. 135unverified

خود اپنے وجود پر غور كيجيے۔ انسان كو جو جسم حاصل هے وه كس قدر حيرت انگيز هے۔ دماغ كو ديكھيے۔ ايك ايسا ٹيلي فون اكسچينج جو هر آن زمين كے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے هوئے هو، ان سے پيغامات وصول كرتا هو، اور ان كے نام پيغام بھيجتا هو۔ اگر آپ ايك ايسے ٹيلي فون ایكسچينج (exchange)كا تصور كرسكيں تو آپ دماغ كے ناقابلِ يقين حد تك پيچيده نظام كا صرف ايك هلكا سا اندازه كرسكتے هيں۔ p. 136

آپ كے دماغ(brain)كے اندر تقريباً ايك هزار ملين عصبي خانے (nerve cells) هيں۔ هر خانے سے بهت باريك تار نكل كر تمام جسم كے اندر پھيلے هوئے هيں جن كو عصبي ريشے (nerve fibres) كهتے هيں۔ ان پتلے ريشوں پر خبر وصول كرنے اور حكم بھيجنے كا ايك نظام تقريباً ستر ميل في گھنٹه كي رفتار سے دوڑتا رهتا هے۔ p. 136

دل كو ديكھيے، اس كا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائي انچ چوڑا هوتا هے۔ اس كا وزن آٹھ اونس سے زياده نهيں هوتا مگر انساني جسم كا يه چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رهتا هے۔ اس كي حركت دن ميں ايك لاكھ بار هوتي هے اور وه هر تيره سكنڈ ميں تقريباً ايك گيلن خون سارے جسم ميں بھيج ديتا هے۔ ايك سال ميں دل جتنا خون پمپ كرتا هے وه اتنا هوتا هے جو ايك ايسي ٹرين كو پوري طرح بھر سكے، جو 65 بڑے بڑے تيل كے ويگن ليے هوئے هو۔ دل كي اس حيرت انگيز كاركردگي كو حاصل كرنے كے ليے عجيب وغريب هنر مندي كے ساتھ اس كو موزوں ترين بنايا گيا هے۔ p. 136

كائنات ميں اس طرح كي بے شمار چيزيں هيں جن كي صرف فهرست بنانے كے ليے ايك پوري لائبريري كي ضرورت هوگي، جب كه انسان كا علم كائنات كے موجود حقائق كي نسبت سے كچھ بھي نهيں هے۔ جو كچھ هم نے ديكھا هے، اس سے كهيں زياده هے ،وه چيز جس كو ديكھنا ابھي باقي هے۔ p. 136

يه حيرت انگيز كاريگري، يه مكمل منصوبه بندي، يه اعلي ترين ذهانت كيا محض اتفاق (chance) سے وقوع ميں آگئي هے۔ بے شك بعض اوقات محض اتفاق سے بھي كوئي واقعه ظاهر هوجاتا هے۔ مثلاً هوا كا ايك جھونكا كبھي سرخ گلاب كے زيره (pollen) كو اڑا كر سفيد گلاب پر ڈال ديتا هے، جس كے نتيجے ميں زرد رنگ كا پھول كھلتا هے۔ مگر اس قسم كا اتفاق محض جزوي اور خفيف تبديلياں پيدا كرسكتا هے۔ وه صرف اس مخصوص رنگ كے گلاب كي توجيه كرتا هے، نه كه وه گلاب كے پورے وجود كا سبب هے۔ اتفاق هر گز اس كي توجيه نهيں كرسكتا كه ايك مخصوص قسم كا نظام اس قدر تسلسل كے ساتھ كيوں جاري هے۔ وه هم كو نهيں بتاتا كه هماري دنيا ميں باقاعدگي اور تنظيم كيوں پائي جاتي هے۔’’اتفاق‘‘ كا عمل كبھي بھي يكساں طور پر نهيں هوسكتا۔ اتفاق كے ليے ممكن نهيں هے كه جو كچھ آج هوا اسي كو كل بھي وجود ميں لائے۔ پھر كيوں تمام چيزيں هميشه يكسانيت كے ساتھ ايك هي شكل ميں ظاهر هورهي هيں۔ ان ميں نظم اور باقاعدگي كيوں پائي جاتي هے۔ p. 136

كچھ دھات كے ٹكڑے هوا ميں اچھالے جائيں تو كيا يه ممكن هے كه وه ڈھلے هوئے حروف كي شكل ميں زمين پر گريں اور گرتے هي ايك بامعني عبارت كي شكل ميں كاغذ كے صفحے پر اکٹھا هوجائيں۔ اگر ايسا محض اتفاق سے نهيں هوسكتا تو يه كيوں فرض كرليا گيا هے كه اتني بڑي دنيا اتني حيرت انگيز خصوصيات كے ساتھ محض اتفاق سے وجود ميں آگئي هے۔ ايك نظريه جس كو كسي تجربه گاه ميں ثابت نهيں كيا جاسكتا اس كو علمي طور پر منوانے كي كيا دليل هے۔ p. 137

دوسري توجيه جس پراتھیسٹ (atheist) انحصار كرتے هيں، وه قانونِ قدرت (nature) هے۔ ’’مرغي كے انڈوں سے بچے كيوں 21روز ميں نكلتے هيں، اور شتر مرغ كے انڈوں سے 45 روز ميں‘‘۔ اس طرح كے بے شمار سوالات هيں، جن كا جواب منکرِ خدا (atheist) كے نزديك يه هے كه ’’يه ايك قانونِ فطرت هے‘‘ ۔ بظاهر يه ايك توجيه هے، مگر درحقيقت يه جواب صرف ايك واقعے كو بيان كرتا هے۔ قانونِ فطرت كا لفظ بول كر هم صرف كائنات كے نظم اور اس كي كاركردگي كا اعتراف كرتے هيں۔ يه لفظ اس كي توجيه نهيں كرتا كه يه نظم اور كاركردگي كيوں قائم هے۔ يه لفظ صرف يه بتاتا هے كه چيزيں هميشه ايك متعين اصول كے تحت وجود ميں آتي هيں، اور هميشه اسي طرح وجود ميں آئيں گي۔ اس سے يه نهيں معلوم هوتا كه جو كچھ هورها هے، وه كيوں هورها هے۔ وه واقعے كا سبب نهيں بتاتا بلكه صرف واقعے كي تصوير پيش كرتاهے۔ p. 137

اگر آپ كسي ڈاكٹر سے پوچھيں كه خون سرخ كيوں هوتا هے تو وه جواب دے گا كه اس كي وجه يه هے كه خون ميں نهايت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء هوتے هيں(ايك انچ كے سات هزار ويں حصے كے برابر) جن كو سرخ ذرّات كهاجاتا هے۔ p. 137

’’درست، مگر يه ذرّات سرخ كيوں هوتے هيں؟‘‘ p. 138

’’ان ذرّات ميں ايك خاص ماده هوتاهے جس كا نام هيموگلوبن (haemoglobin) هے، يه ماده جب پھيپھڑے ميں آكسيجن جذب كرتا هے تو سرخ هوجاتا هے‘‘۔ p. 138other source

’’ٹھيك هے، مگر هيموگلوبن كے حامل سرخ ذرّات آخر كهاں سے آئے‘‘۔ p. 138other source

’’وه آپ كي تِلّي (spleen)ميں بن كر تيار هوتے هيں‘‘۔ p. 138

ڈاكٹر صاحب! جو كچھ آپ نے فرمايا، وه بهت عجيب هے، مگر مجھے بتائيے كه ايسا كيوں هے كه خون، سرخ ذرّات، تلّي اور دوسري هزاروں چيزيں اس طرح ايك كُل كے اندر باهم مربوط هيں، وه اس قدر صحت كے ساتھ يك جا هوكر كيسے عمل كرتي هيں كه ميں سانس ليتا هوں، ميں دوڑتا هوں، ميں بولتا هوں، ميں زنده هوں‘‘۔ p. 138opposing view

’’يه قدرت كا قانون هے‘‘۔ p. 139

’’وه كيا چيز هے جس كو آپ قانونِ قدرت كهتے هيں‘‘۔ p. 139

’’اس سے ميري مراد طبيعي اور كيمياوي طاقتوں كا اندھا عمل هے (Blind interplay of physical and chemical forces) ‘‘۔ p. 139

’’مگر كيا وجه هے كه يه اندھي طاقتيں هميشه ايسي سمت ميں عمل كرتي هيں، جو انھيں ايك متعين انجام كي طرف لے جائے۔ كيسے وه اپني سرگرميوں كو اس طرح منظم كرتي هيں كه ايك چڑيا اُڑنے كے قابل هوسكے، ايك مچھلي تير سكے اور ايك انسان اپني مخصوص صلاحيتوں كے ساتھ وجود ميں آئے‘‘۔ p. 140

’’ميرے دوست ، مجھ سے يه نه پوچھو، سائنس داں صرف يه بتا سكتا هے كه جو كچھ هورها هے وه كيا هے۔ اس كے پاس اس سوال كاجواب نهيں هے كه جو كچھ هورها هے وه كيوں هو رها هے ‘‘۔ p. 140

يه سوال وجواب موجوده سائنس كي حقيقت واضح كررها هے۔ بے شك سائنس نے هم كو بهت سي نئي باتيں بتائي هيں۔ مگر اس نے جو كچھ بتايا هے وه صرف كچھ هونے والے واقعات هيں۔ وه واقعات كيوں كر هورهے هيں اس كا جواب سائنس كے پاس نهيں هے۔ ايك مكھي كے نازك اعضا كس طرح كام كرتے هيں۔ بے شك سائنس نے اس سلسلے ميں هم كو بهت كچھ بتايا هے، مگر وه كون ذهن هے، جس نے سوچا كه مكھي كو ان نازك اعضا كي ضرورت هے، اور اس كو كمال كاريگري كے ساتھ ايسے اعضا فراهم كيا۔ كائنات كے نظم اوراس كي موزونيت(appropriateness) كي تشريح كرنے كے ليے اور يه بتانے كے ليے كه مختلف قسم كي بے شمار اندھي طاقتيں ايك مخصوص انجام كي طرف اپنا عمل كيوں كرتي هيں — هم كو ان طاقتوں كي موجودگي كے سوا كس چيز كي ضرورت هے۔ ايك بچھے هوئے بستر كي تشريح محض اس طرح نهيں هوسكتي كه آپ چادر، تكيه اور پلنگ كے نام لے ليں۔ ايك محل، نام هے لاكھوں اينٹيں اور دوسري چيزيں اپنے صحيح ترين مقام پر نصب هونے كا۔ انساني جسم كے كسي چھوٹے سے چھوٹے عضو كے وجود ميں آنے كے ليے ضروري هے كه كروروں ايٹم ايك منفرد اور مخصوص ترتيب كے ساتھ يك جا هوں۔ اندھي طاقتيں هر گز اس طرح كي مقصديت كا اظهار نهيں كرسكتيں، وه واقعات كے اندر معنويت اور هم آهنگي پيدا نهيں كرسكتيں۔ p. 140unverified

حقيقت يه هے كه فطرت كا قانون كائنات كا ايك واقعه هے، وه كائنات كي توجيه نهيں هے۔ يه ايك ايسا واقعه هے، جو خود اپنے وجود كے ليے ايك توجيه كا طالب هے۔ اس موقع پر مصنف كے الفاظ نقل كرنے كے قابل هيں۔ وه لكھتا هے— قانونِ قدرت كائنات كي تشريح نهيں كرتا۔ وه خود اس كا طالب هے كه اس كي تشريح كي جائے p. 140original + quote

Nature does not explain, she is herself in need of an explanation. p. 140

اس کا مطلب یہ ہے کہ كسي چيز ميں معنويت كا هونا، اس بات كا صريح ثبوت هے كه اس كے پيچھے كوئي ذهن كام كررها هے۔زندگي كا جرثومه جو ايك مرد كے جسم ميں پرورش پاتا هے، وه جسم كے دوسرے خليوں (cells)كے بالكل مشابه هوتا هے، مگر اس ميں دوسرے خليوں سے بالكل مختلف خصوصيت هوتي هے، اس كے اندر يه صلاحيت هوتي هے كه عورت كے ايك خليه سے هم آهنگ هو كر مكمل طورپر ايك نيا انسان وجود ميں لاسكے۔ يه كس طرح ممكن هوتاهے كه دو خليے جن ميں سے هر ايك دو بالكل مختلف جسموں ميں پرورش پاتے هيں، وه اس قدر حيرت انگيز طورپر باهم مل كر عمل كرنے كي صلاحيت ركھتے هيں۔ كيا ايك تخليقي ذهن كي كارفرمائي تسليم كيے بغير اس كي تشريح كي جاسكتي هے۔ p. 141

كائنات ميں ايك تخليقي ذهن كو ماننا محض ايك بے بنياد روايت كو ماننا نهيں هے۔ دراصل بهت سے ناگزير نتائج هم كواس عقيده تك پهنچاتےهيں، بے شمار علمي حقيقتيں هم كو مجبور كرتي هيں كه هم كائنات كے پيچھے ايك ذهن كي كارفرمائي تسليم كريں۔ ٹھيك اسي طرح جيسے ريڈيو كي آواز هم كو يه ماننے پر مجبور كرتي هے كه هم كچھ لهروں كي موجودگي تسليم كريں، حالانكه هم ان لهروں كو بالكل نهيں ديكھتے۔ گلاس ميں شكر ڈاليں تو تھوڑي دير ميں وه اس طرح گھل مل جائے گي كه آنكھوں كو دكھائي نهيں دے گي۔ مگر زبان سے چكھ كر آپ پاني ميں شكر كي موجودگي كو معلوم كرسكتے هيں۔ اسي طرح خدا آنكھوں كو نظر نهيں آتا مگر جب هم اپنے گردوپيش كي دنيا كا مطالعه كرتے هيں تو همارا وجدان (intuition)پكار اٹھتا هے كه بےشك يهاں ايك خداهے، اس كے بغير موجوده كائنات وجود ميں نهيں آسكتي تھي۔ p. 141unverified

حقيقت يه هے كه علم كے اضافے نے انسان كو خدا سے دور نهيں كيا بلكه اور اس كے قريب كيا هے۔ خدا كے وجود پر شك كرنا محض اپني جهالت كا اعلان كرنا هے۔ پاسچر كا قول كس قدر صحيح هے جس كو مصنف نے كتاب كے صفحه اول پر درج كياهے p. 141original + quote

A smattering of science turns people away from God—Much of it brings them back to Him. p. 142

معمولي علم آدمي كو خدا سے دور كرتاهے، زياده علم اس كو خدا سے قريب كرنے والا هے۔ p. 142