Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عجز کی تلافی p. 152
انسان کی زندگی کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ وہ مستقل طور پر عجز (helplessness) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ اس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا۔ p. 152
آدمی جسمانی اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ ایک معمولی حادثہ بھی اس کو زخمی کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کو زندہ رہنے کے لیے ایک بے حد متوازن جغرافیہ درکار ہے۔ جغرافی توازن میں بگاڑ کو وہ برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ جس کائنات میں ہے وہ اتنی زیادہ بڑی اور وسیع ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان اپنے آپ کو حددرجہ حقیر پاتا ہے۔ کوئی شخص علمی میدان میں تحقیق کر رہا ہو تو اس پر کھلتا ہے کہ حقائق اس سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں کہ اس کی محدود عقل ان کا احاطہ کر سکے۔ ایک آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس کو تجربہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات لامعلوم اسباب(unknown factors) حائل ہو کر اس کے کام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی خوش قسمت آدمی ان تلخ تجربات سے بچ جائے تو موت سے وہ اپنے آپ کو نہیں بچا پاتا۔ موت کا حملہ بالکل یک طرفہ ہوتا ہے۔ موت آدمی کے گھروندہ کو اس طرح تہس نہس کر دیتی ہے جیسے ایک سخت زلزلہ کسی پررونق شہر کو اچانک ملبہ کا ڈھیر بنا دے۔ p. 152
یہ احساس عجز ہر آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہ چیز اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا سہارا پکڑے جو اس سے زیادہ طاقت ور ہو۔ جو اس کے لیے اس کے عجز کی تلافی بن جائے۔ یہی احساس بے چارگی آدمی کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کو ایک ایسا خدا چاہیے جس کے سامنے وہ اپنے جذبات شکر کو انڈیل سکے۔ جس کے اوپر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرے۔ جس کا عقیدہ اس کے لیے اس وقت بھی سہارا بنا رہے جب کہ بظاہر کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ جس سے وہ یہ امید کر سکے کہ وہ اس کی ہربربادی کے بعد اس کو آباد کرے گا۔ اور ہر مشکل کو اس سے رفع فرمائے گا۔ اسلام کا خدا ایسی ہی ایک ہستی ہے جو پورے معنوں میں حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ کامل بھی۔ p. 153