Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مذہب اور زندگی کی علیحدگی p. 147
مسلمانوں کے زوال کے بعد جب یورپ میں جدید تحقیق کا کام شروع ہوا تو ’’مسیحی علوم ‘‘ کی غلطی واضح ہونے لگی۔ جدید علما نے جب فلکیات اور جغرافیہ اور طبیعیات سے متعلق اپنی تحقیقات شائع کیں تو مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مسیحی چرچ نے اولاً ان علما کی بےدینی کے فتوے دیے۔ جب اس سے لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوئیں تو پوپ کے حکم خاص سے احتساب کی عدالت(Inquisition) قائم ہوئی۔ اندازہ ہے کہ تقریباً تین لاکھ آدمیوں کو مسیحی احتساب کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑا۔ ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ تقریباً30 ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیاگیا۔ ان سزا یافتگان میں گلیلیو اور برونو (Brunoe) جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ p. 147
اس کے نتیجہ میں چرچ اور سائنس کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو بالآخر علم اور مذہب کی جنگ بن گئی۔ مفروضہ مقدس عقائد پر بے جا اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں یہ خیال عام ہوگیا کہ علم اور مذہب دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ قرآن کے مطابق علم اللہ سے قریب کرنے والی چیز ہے(فاطر، 35:28)۔ مگر مسیحی تحریفات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم لوگوں کو اللہ سے دورکرنے والا بن گیا۔ p. 148original + quote
علم اور مذہب کا یہ تصادم تقریباً دو سو برس تک جاری رہا۔ یہاں تک 1859 میں چارلس ڈارون نے اپنی کتاب(Origin of Species) شائع کی۔ چرچ نے اس کی زبردست مخالفت کی۔ مگر اب چرچ کا زورگھٹ چکا تھا۔ بالآخر دونوں کے درمیان (secularism) کی صورت میں سمجھوتہ ہوگیا۔ مذہب اور علم کے دائرے ایک دوسرے سے الگ کر دیے گئے۔ مذہب کو شخصی دائرہ کی چیز قرار دے کر بقیہ تمام شعبوں میں انسان کے لیے آزادی کا حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنی تحقیق چلائے۔ p. 148