Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غلط فہمی کا ازالہ p. 123
اوپر کی سطروں میں میں نے اسلام کے تصور زندگی کو اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ آج ہم جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، ان کو وہ کس طرح حل کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی اس کی کل حیثیت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی فرضی نظریہ نہیں ہے جو مسائل پیش آنے کے بعد ضرورت کے طور گھڑ لیا گیا ہو۔ حل مسائل کی غرض سے ہم دنیا کو کوئی فلسفیانہ فریب نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سوال کہ ’’زندگی کے مسائل کا حل کیا ہے۔‘‘ یہ بذات خود کوئی الگ سوال نہیں۔ بلکہ وہ اس بڑے سوال کا جزء ہے کہ ’’زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے۔‘‘ حقیقت سے مطابق ہونے ہی کا دوسرا نام مسائل کا حل ہونا ہے۔ جس نظام فکر کو اپنانے سے زندگی کے مسائل حل ہو جائیں، یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہی نظام فکر کائنات کی اصل حقیقت ہے اور کسی نظام فکر کا اصل حقیقت ہونا خود بخود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ p. 123