Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مذہب ایک رسمی ضمیمہ p. 148
تاہم یہ علیحدگی علم اور مذہب کی علیحدگی نہ تھی بلکہ یہ زندگی اور مذہب کی علیحدگی تھی۔ چرچ نے یہ نہیں کیا کہ جن غیر آسمانی افکار و خیالات کو اس نے اپنے مذہب میں شامل کیا تھا ان کو وہ اپنے مذہب سے خارج کر دے۔ ان کی ساری نامعقولیت کے باوجود وہ ان کو اپنے مذہب کا جزء بنائے رہا۔ ایسی حالت میں مذہب کو شخصی دائرہ میں جگہ ملنا بھی ناممکن تھا۔ کیوں کہ آدمی ایک سوچنے سمجھنے والی مخلوق ہے۔ جس چیز کی معنویت آدمی کے اوپر واضح نہ ہو اس کو وہ شخصی طور پر بھی اپنی زندگی کا جزء نہیں بنا سکتا۔ اس تقسیم کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ مذہب زندگی کا صرف ایک رسمی ضمیمہ بن جائے، وہ کسی کی زندگی میں حقیقی طور پر شامل نہ ہو سکے۔ p. 148
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے کہ دو غیر ہم آہنگ فکر یکساں قوت کے ساتھ آدمی کے ذہن میں جمع ہوں۔ جو چیز علمی اور فکری معیار پر پوری نہ اترے وہ کسی شخص کی زندگی کا ایک غیر موثر ضمیمہ تو بن سکتی ہے مگر وہ ایک زندہ عنصر کی حیثیت سے کبھی اس کی زندگی میں جگہ نہیں پا سکتی۔ مذہب کو شخصی طور پر باقی رکھنے کے لیے بھی اس کا مطابق عقل ہونا ضروری ہے۔ جو مذہب عقل کے مطابق نہ ہو وہ شخصی سطح پر بھی اپنے وجود کو باقی رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ ایسا مذہب کسی آدمی کے ہاتھ میں بس’’چھنگلیا‘‘ بن کر رہ جائے گا۔ وہ اس کے ہاتھ کا’’انگوٹھا‘‘ نہیں بن سکتا۔ p. 149original + quote