Islam Aur Asr-e-Hazir

علیحدگی کا عمل

Islam Aur Asr-e-Hazir — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (55 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. روحانی تہذیب
  3. مذہب اور سائنس
  4. یہ بٹن دبانے کا معاملہ نہیں
  5. عقیدہ خدا اور اسلام
  6. حقیقت کی تلاش
  7. خالق کی تلاش
  8. معبود کی تلاش
  9. انجام کی تلاش
  10. انسان کی نار سائی
  11. پیغمبر کی ضرورت
  12. پیغمبر کی صداقت
  13. قران اپنی دلیل اپ
  14. اخری بات
  15. اسلام کا تعارف
  16. خدا کا وجود
  17. کائنات میں نشانیاں
  18. خدا کے ساتھ ہمارا تعلق
  19. معرفت کا حصول
  20. وحی کا مسئلہ
  21. تعصب یا خدا پرستی
  22. منزل کی طرف
  23. قانون کی ناکامی
  24. مادی فلسفہ
  25. محرک کی ضرورت
  26. دیوار کی ضرورت
  27. عیسائیت
  28. ہندو ازم
  29. دونوں مذاہب پر تبصرہ
  30. اسلام
  31. غلط فہمی کا ازالہ
  32. خاتمہ
  33. دور جدید میں انسان کے مسائل
  34. اسلام اور عصر حاضر
  35. حصہ اول
  36. روحانی فاقہ
  37. علیحدگی کا عمل
  38. مسیحیت اور اسلام کا فرق
  39. مسیحیت میں تبدیلی
  40. مذہب اور زندگی کی علیحدگی
  41. مذہب ایک رسمی ضمیمہ
  42. فطرت انسانی کا تقاضا
  43. عجز کی تلافی
  44. خدا کا تصور مختلف مذاہب میں
  45. خدا کا بگڑا ہوا تصور
  46. حصہ دوم
  47. اجتماعی مسائل
  48. خاتمہ
  49. انسان اپنے اپ کو پہچان
  50. سب سے بڑا مسئلہ
  51. موت کے بعد زندگی
  52. دوسری دنیا
  53. اخری بات
  54. سچائی کا اعتراف
  55. یہ تضاد کیوں

علیحدگی کا عمل p. 141

قدیم زمانہ میں انسانی ذہن پر فلسفہ کا غلبہ تھا۔ فلسفہ چیزوں کو مکمل طور پر سمجھنے پر زور دیتا تھا۔ وہ اشیا کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔ تاہم پانچ ہزار سالہ کوشش کے باوجود فلسفہ کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ p. 141

سولھویں صدی عیسوی میں جب یورپ میں سائنسی مطالہ کا آغاز ہوا تو سائنس دانوں نے اس کو اپنے لیے مفید سمجھا کہ وہ چیزوںکی حقیقت کو اس کی خاصیت سے جدا کر دیں۔ انہوں نے علم کی دو قسمیں قرار دیں p. 141

1۔ چیزوں کا علم(Knowledge of Things) p. 142

2۔ حقیقتوں کا علم(Knowledge of Truths) p. 142

انہوں نے اپنے مطالعہ کے دوران محسوس کیا کہ حقیقت کے بارہ میں قطعی علم تک پہنچنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ کیوں کہ حقیقت ہمیشہ اتنی لطیف ہوتی ہے جس کو انسانی پیمانوں سے ناپا اور تولا نہیں جا سکتا(الاسراء، 17:85) چنانچہ انہوں نے عملی موقف اختیار کرتے ہوئے حقیقت کو اپنی تحقیق کے دائرہ سے باہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف’’کیا‘‘ کے سوال کو لیں گے، ہم’’کیوں‘‘ کے سوال پر غور نہیں کریں گے۔ اس طرح انہوں نے اپنی تحقیق کو صرف چیزوں کے علم تک محدودرکھا جس کا قطعی علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔ p. 142original + quote

یہ طرز فکر تاریخ میں کام کرتا رہا۔ اولاً گلیلیو(1596-1650) کے زمانے میں پھول کی خوشبو کو پھول کی کیمسٹری سے جدا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ڈیکارٹ(1596-1650) نے ثنویت(dualism) کے اس اصول کی توسیع کی اور اس کو انسان کے مطالعہ میں استعمال کیا۔ اس نے روح کو الگ کرکے جسم کا مطالعہ شروع کیا۔ انسان کے روحانی حصہ کو اس کے وجود کے مادی حصہ سے الگ کر دیا گیا۔ p. 142

مذکورہ ثنویت سے مادی سائنس کے میدان میں بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ مقناطیس کے گرد مقناطیسی میدان(magnetic field) کی حقیقت کو سمجھے بغیر بھی یہ ممکن تھا کہ عملی طور پر مقناطیس کو بجلی پیدا کرنے اور موٹر چلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر جب اس ثنویت کو انسان کے اوپر استعمال کیا گیا تو اس کے زبردست نقصانات ہوئے۔ کیوں کہ بے جان مادہ کی دنیا میں ثنویت چل سکتی ہے۔ مگر انسان ثنویت کو قبول نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی آدمی کا پتھر کا اسٹیچو ہو اور اس کو آپ ایک تاریک کوٹھری میں بند کر دیں تو اسٹیچو کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر انسان ایک نفسیاتی وجود ہے۔ اس لیے اگر زندہ انسان کو اس قسم کی کوٹھری میں بند کیا جائے تو یہ اس آدمی کو ہلاک کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسٹیچو کو آپ آزادی سے محروم کر سکتے ہیں اور وہ کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ لیکن اگر انسان کو اس کی آزادی سے جدا کر دیں تو اس کی پوری شخصیت تہس نہس ہو جائے گی۔ p. 143

مادہ کو اس کی معنویت سے اور جسم کو اس کی روح سے علیحدہ کرنے کا یہ معاملہ جو مغرب میں پیش آیا اس نے وہ ذہنی زمین فراہم کر دی جس میں خدا اور انسان کی وہ علیحدگی ممکن ہو سکے جو بعد کو مغرب میں پیش آئی۔ p. 143