Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تاریخی فرق p. 285
یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ پہلی بار638ء میں ہوا۔ اس کے بعد1099ء میں دوبارہ وہ مسیحیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔88 سال بعد1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ یروشلم پر مسلم قبضہ کو بحال کیا۔ p. 285
اس طرح گیارھویں صدی اور بارھویں صدی کے درمیان تقریباً90 سال تک کا زمانہ ایسا گزرا ہے جب کہ یروشلم غیر مسلموں کے سیاسی قبضہ میں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب کہ مذہبی آزادی کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔ ہر طرف دنیا میں مذہبی جبر کا نظام رائج تھا۔ چنانچہ یروشلم پر مسیحی قبضہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کا وہاں داخلہ بھی عملاً بند ہوگیا۔ ایک عرصہ تک کے لیے مسلمان مسجد اقصیٰ کی زیارت سے محروم کر دیے گئے۔ p. 285
مگر1967ء میں جب یروشلم یہودی قبضہ میں آیا تو زمانہ بالکل بدل چکا تھا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی کو ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا تھا۔ یہ زمانی فرق اتنا طاقت ور تھا کہ یروشلم کے نئے حکمرانوں کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر سکیں۔ p. 286
تاہم مسلمان اس جدید امکان کو استعمال نہ کر سکے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ وہ زمانی فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ چنانچہ سابقہ روایت کے زیر اثر وہ یروشلم جانے سے رک گئے۔ نئی حکمت نے کبھی انھیں یروشلم جانے سے نہیں روکا۔ بلکہ اپنے خود ساختہ تصور کے تحت انھوں نے بطور خود وہاں کا سفر کرنا ترک کر دیا۔ p. 286