Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک شرعی اصول p. 200
قرآن میں حکم دیا گیا ہے اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگ پکارتے ہیں تم ان چیزوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ لوگ اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے(6:108)۔ p. 200Qur'an
اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے عمل کو نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہونا چاہیے۔ ہر اقدام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اگر نتیجہ غیر مطلوب نکلنے والا ہو تو اقدام سے پرہیز کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو عمل الٹا نتیجہ والا(counter-productive) ثابت ہو، وہ عمل اسلام میں جائز نہیں۔ p. 200
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیسے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا، آپ نے فرمایا کہ تم کسی شخص کے باپ کو گالی دو گے پھر وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ تم کسی کی ماں کو گالی دو گے پھر وہ تمہاری ماں کو گالی دے گا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5973)۔ p. 200original + quote
اسی بنا پر فقہ میں ایک مستقل مسئلہ بنا ہے جس کو تَركُ المَصلَحَةِ لمَفسَدَةِ أرجَحُ مِنْهَا کہا جاتا ہے۔ یعنی، ایک بظاہر مطلوب کام کو اس لیے چھوڑ دینا کہ اس کے کرنے سے زیادہ بڑا بگاڑ پیدا ہوگا(تفسیر ابن کثیر، جلد2، صفحہ164)۔ p. 201original + quote
اس شرعی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے وہ تمام اقدامات غیر اسلامی قرار پاتے ہیں جن کو جہاد کے نام پر شروع کیا گیا۔ کیونکہ ان اقدامات کا نتیجہ زبردست تباہی کی صورت میں نکلا۔ اقدام جہاد سے پہلے مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی ان سے کھویا گیا اور مزید کوئی چیز انھیں حاصل نہ ہو سکی۔ p. 201