Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انسانیت نئے عہد میں p. 217
یہ کوئی سادہ سی بات نہیں، بلکہ بہت زیادہ اہم بات ہے۔ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس کو ہمیں وسیع تر دائرہ میں دیکھنا چاہیے۔ p. 217
قدیم مشرکانہ دور میں انسان مظاہر فطرت کی پرستش کرتا تھا۔ یہ چیز سائنس(علوم فطرت) کے ظہور میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ علوم فطرت کے ظہور کے لیے فطرت کی تحقیق ضروری تھی۔ اور فطرت چونکہ انسان کے لیے معبود کا درجہ رکھتی تھی اس لیے انسان فطرت کو پرستش کا موضوع بنائے ہوئے تھا۔ یہ مزاج فطرت کو تحقیق و تسخیر کا موضوع بنانے میں مستقل رکاوٹ تھا۔ p. 217
اسلام نے توحید کی بنیاد پر فکری انقلاب برپا کرکے سائنسی ترقی کادروازہ کھولا۔ اس سلسلے میں علوم سائنس(علوم فطرت) کی ترقی کے تین دور ہیں p. 217
(1) ذہنی رکاوٹ (mental block)کو توڑنا۔ یہ کام مکہ سے بغداد (610-1258) کے تاریخی مرحلہ میں ہوا۔ p. 217
(2) نئے فکر کی بنیاد پر فطرت کی عملی تحقیق و تجربہ کا دروازہ کھولنا۔ یہ کام مسلم اسپین کے دور(711-1492) میں شروع ہوا۔ p. 218
(3) اس آغاز کو آخری تکمیل تک پہنچانا۔ یہ کام سولہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے دور میں مغربی یورپ میں انجام دیا گیا۔ p. 218
یہاں یہ سوال ہے کہ جو کام مسلم دنیا میں شروع ہوا اور اس نے مسلم دنیا میں اپنے دو مرحلے بھی طے کر لیے، اس کی تکمیل یورپ میں پہنچ کر کیوں ہوئی۔ اس کی ایک نفسیاتی وجہ غالباً یہ تھی کہ بغداد کی مسلم سلطنت اور اسپین کی مسلم سلطنت کے درمیان اول روز سے رقابت پیدا ہوگئی۔ چنانچہ بغداد نے کبھی سنجیدہ طور پر اسپین کے کام کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ غالباً اسی رقابت کا یہ اثر تھا کہ ہندستان یا کسی دوسرے ملک میں بھی کسی قابل ذکر شخصیت نے یہ نہیں سوچا کہ ہمیں اسپین کی ترقیوں سے واقف ہو کر اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ p. 218
یہ حقیقت اگر ہم عصر مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماؤں پر واضح ہوتی اور وہ لوگ اس سلسلہ میں مثبت اقدام کرتے تو اسپین کے زوال کے بعد جو علما بھاگ کر مغربی یورپ میں گئے، وہ اس کے بجائے مسلم دنیا کارخ کرتے۔ اور پھر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا تسلسل یورپ میں جاری ہونے کے بجائے مسلم دنیا میں جاری ہو جاتا۔ اور جس طرح جدید سائنسی دور کا آغاز کرنے کا کریڈٹ اسلام کو حاصل ہے، اسی طرح اس دور کی تکمیل کا کریڈٹ بھی اسلام کو حاصل ہوتا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخ کا نقشہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو موجودہ دور میں ہمیں نظر آتا ہے۔ p. 218