Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شاکلۂ انسانی کا مسئلہ p. 244
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے شاکلہ(فکری مزاج) کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس کا شاکلہ اگر شاکلۂ ضلالت ہو تو اس سے غلط عمل صادر ہوگا۔ اور اگر اس کا شاکلہ شاکلۂ ہدایت ہو تو اس سے صحیح عمل کا صدور ہوگا۔ آیت کے الفاظ یہ ہیںقُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلا (17:84)۔ یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ p. 244original + quote
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے دنیا کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے اوپر شاکلۂ ضلالت کا غلبہ تھا۔ یہ شاکلہ مشرکانہ عقائد کے تحت بنا تھا۔ اسی شاکلۂ ضلالت کو قرآن میں فتنہ(8:39) کہا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی جدوجہد سے اس شاکلۂ ضلالت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شاکلۂ ہدایت کا دور شروع ہوا جو توحید کے تصورپر مبنی تھا۔ یہ شاکلۂ ہدایت کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا پر غالب رہا۔ p. 244original + quote
اٹھارویں صدی میں یہ عہد ختم ہو کر نیا عہد شروع ہوا۔ اب تاریخ انسانی میں ایک نیا دور آیا۔ یہ دور دوبارہ شاکلۂ ضلالت پر مبنی تھا جو ملحدانہ افکار کے اوپر قائم ہوا تھا۔ اسلامی دور میں ’’خدا‘‘ انسانی تفکیر کا مرکز تھا۔ یہی تصور انسانی اعمال کی تشکیل کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ’’نیچر نے خدا کی جگہ لے لی۔ اب نیچر پر مبنی افکار انسانی اعمال کی تشکیل کرنے لگے۔ شاکلۂ انسانی کی اس تبدیلی نے انسانی زندگی کے تمام عملی نقشوں کو یکسر بدل دیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر اب بھی خدا کو مانتے تھے وہ بھی اس عام فکری طوفان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ p. 244
جدید ذہن کو پیدا کرنے میں لمبی مدت اور سیکڑوں اشخاص کاعمل شامل ہے۔ تاہم علامتی طور پر سرآئزک نیوٹن(1642-1727ء) کو اس دور کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ نیوٹن نے شمسی نظام کامطالعہ کیا۔ اس نے اس بات کی تحقیق کی کہ سورج، چاند اور سیارے کس طرح حرکت کرتے ہیں۔ فلکیاتی مظاہر کی تشریح اس نے میتھمیٹکس کے قواعد کے ذریعہ کی۔ اس نے بتایا کہ یہاں ایک قانون تجاذب(law of gravitation) ہے جس کی پابندی میں یہ اجرام خلائے بسیط میں حرکت کر رہے ہیں۔ p. 245
قدیم زمانہ میں سادہ طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ سورج، چاند کی گردش اور دوسرے تمام واقعات مقدراتِ خداوندی کے تحت پیش آتے ہیں۔ قدیم انسان اس سے ناآشنا تھا کہ اپنے گردو پیش ظہور میں آنے والے ان واقعات کو قانون فطرت(law of nature) کی مادی اصطلاحوں میں بیان کرے۔ p. 245
نیوٹن کی تحقیقات کی اشاعت نے پورے انسانی عقیدہ کو متزلزل کر دیا۔ مزید تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کے تمام واقعات فطرت کے ایسے قوانین کے تحت ظاہر ہو رہے ہیں جن کو علم الحساب کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے تو قدیم اعتقادیات کی بنیاد بالکل منہدم ہوگئی۔ جدید مفکرین نے اعلان کر دیا کہ واقعات اگر فطرت کے اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطرت اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے p. 245original + quote
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. p. 245
نیوٹن کے بعد مفکرین کا ایک اور گروہ اٹھا جس نے انسانی ذہن کی نئی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ اس گروہ میں نمائندہ شخصیت چارلس ڈارون(1802-1882) کی ہے۔ نیوٹن نے طبیعی دنیا(physical world) کو قانون فطرت کے تحت حرکت کرتا ہوا دکھایا تھا۔ ڈارون نے بتایا کہ حیاتیاتی دنیا(biological world) بھی اسی طرح قانون فطرت کے تحت سفر کر رہی ہے۔ ابتدائی جرثومۂ حیات سے لے کر انسان تک جتنے بھی حیاتیاتی مظاہر اس دنیا میں دکھائی دیتے ہیں وہ سب کے سب معلوم فطری قانون کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ p. 245
ڈارون کے اس نظریہ پراس کے بعد بے شمار مزید تحقیقات ہوئیں۔ اگرچہ اس کے ابتدائی نظریہ میں بعض تعدیلات کی گئیں۔ مگر بنیادی طور پر حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ تمام جدید علما کے نزدیک سائنسی مسلمہ قرار پایا۔ اس کے نتیجہ میں شعوری یاغیر شعوری طور پر ساری دنیا میں یہ بن گیا کہ انسان کی تخلیق کا خالق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس قانونِ فطرت کا مظہر ہے جس کو عام طور پر ارتقاء(evolution) کہا جاتا ہے۔ p. 246
جدید مفکرین کا تیسرا گروہ وہ ہے جس کی نمائندگی کا مقام کارل مارکس (1818-1883ء) کو حاصل ہوا۔ مارکس نے انسانی تاریخ کے سفر کا ایک مادی فلسفہ پیش کیا جس کو اس نے تاریخ کی علمی تعبیر(scientific interpretation) کا نام دیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ میں خود اس کے اپنے اندرونی قانون کے تحت طبقاتی جدوجہد(class struggle) جاری رہتی ہے۔ اور یہی طبقاتی جدوجہد تاریخ کے حال اور مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔ p. 246
قدیم زمانہ کا انسان تاریخ کو تقدیر کا کرشمہ سمجھتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک برتر خدا ہے جو تاریخی واقعات کو کسی ایک یا دوسری صورت میں تشکیل دیتا ہے۔ مگر مارکس کے مذکورہ فلسفہ اور اس فلسفہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے بے شمار لٹریچر نے ساری دنیا کے انسانوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر کیا۔ لوگ تاریخ کو ایک غیر خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگے جب کہ اس سے پہلے وہ اس کو خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ p. 246