Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اجتہاد کی اہمیت p. 39
فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا مسئلہ حقیقتاً مسائل حاضرہ کے مقابلہ میں اجتہاد جدید کا مسئلہ ہے۔ چوں کہ موجودہ زمانہ کے علما اجتہاد کے لیے تیارنہیں ، اس لیے وہ ابھی تک فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا کام بھی نہ کر سکے۔ حالاں کہ اسلام میں اجتہاد کو جاری رکھنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اور اس کے سلسلہ میں مسلمانوں کی غیر معمولی ہمت افزائی کی گئی ہے۔ p. 39
صحیح البخاری (كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ) اور صحیح مسلم (كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ) میں حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے ، اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716)۔ p. 39quoted source
ابن حجر العسقلانی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے شخص کے لیے دو اجر ہے، کوشش کا اور درستگی کا۔ اور دوسرے شخص کے لیے صرف کوشش کا اجر ہے فَالأَوَّلُ لَهُ أَجْرَانِأَجْرُ الِاجْتِهَادِ وَأَجْرُ الإِصَابَةِ. وَالآخَرُ لَهُ أَجْرُ الِاجْتِهَادِ فَقَط( فتح الباری، جلد 13، صفحہ331)۔ p. 40other source
اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد اسلام میں اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس میں غلطی کرنے پر بھی ثواب رکھ دیا گیا ہے، بشرطیکہ اجتہاد کرنے والے کی نیت درست ہو۔ اس حدیث کے مطابق ، اجتہاد کا عمل کسی حال میں روکا نہیں جائے گا ، خواہ اس کے لیے رسک لینا پڑے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ چوتھی صدی ، ہجری کے بعد لوگوں نے اس اندیشہ کی بنا پر اجتہاد کو ترک کر دیا کہ کہیں ہم سے غلطی نہ ہو جائے ، جب کہ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا تھا کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی تم اجتہاد کا عمل جاری رکھنا۔ p. 40original + quote
اس کا سبب اجتہاد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جہاں اجتہاد نہیں ہو گا وہاں جمود ہو گا۔ اور ذہنی جمود درحقیقت ذہنی موت ہے جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان نہیں۔ p. 40