Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔