Tazkirul Quran (Urdu)

72. Al-Jinn

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔

حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔

حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔

حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔

حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔original + quote

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔