Tazkirul Quran (Urdu)

56. Al-Waaqia

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

اصحاب الشمال (بائیں طرف والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دنیا میں انہیں جو چیزیں ملی تھیں انہوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہے۔ جو اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ وہ آخرت کو اس طرح بھولے رہے گویا کہ وہ آنے والی ہی نہیں۔ ایسے لوگ فیصلہ کے دن سخت عذاب کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

موجودہ دنیا میں آدمی دیکھتا ہے کہ اس کو آزادی حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس لیے آخرت کی پکڑ کی بات اس کے ذہن میں نہیں بیٹھتی۔ مگر اگلی دنیا کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا موجودہ دنیا کا بننا۔ جب وہ وقت آئے گا تو سارا نظام تلپٹ هوجائے گا۔ اوپر کے لوگ نیچے ہوجائیں گے۔ اور نیچے کے لوگ اوپر دکھائی دیں گے۔ اس وقت انسان اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے السابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔original + quote

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔unverified

ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بادل سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی طرف سے ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہيے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہيے، نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دیا ہے وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً 98 فی صد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 1/10حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالۂ نمک (Desalination) کا ایک عظیم آفاتی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہوجائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں، زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لیے سخت ناقابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس كاسینہ حمدِ خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

مواقع کا لفظ موقع کی جمع ہے اس کے معنی ہیں گرنے کی جگہ ۔ چنانچہ بارش ہونے کی جگہ کو مواقع القطر کہا جاتا ہے۔یہاں ستاروں کے مواقع سے مراد غالباً ستاروں کے مدار ( Orbits) ہیں۔ کائنات میں بےشمار نہایت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ وہ حددرجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں۔ یہ واقعہ دہشت ناک حد تک عظیم ہے ۔ جو شخص اس خلائی نظام پر غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق نا قابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ پھر ایسے خالق کی طرف سے جو کتاب آئے وہ بھی یقیناً عظیم ہوگی۔اور قرآن بلا شبہ ایسی ہی ایک عظیم کتا ب ہے۔ قرآن جس طرح لوح محفوظ میں تھا ، ٹھیک اسی طرح وہ فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچا ۔ اور آج تک وہ اسی طرح محفوظ ہے۔ قدیم زمانہ کی کوئی بھی دوسری کتاب نہیں جو اس طرح کامل طور پر محفوظ ہو۔ یہ واقعہ خود اس کتاب کی عظمت کا ثبوت ہے۔ ایسی ایک کتاب سے جو شخص ہدایت حاصل نہ کرے اس کی محرومی کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔original + quote

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔original + quote

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔original + quote

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) سے مراد عام اہل جنت ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے صالح تھے۔ ان کو ایمانی اعتبار سے اگرچہ اعلی شعوری درجہ حاصل نہ تھا تاہم وہ خدا ورسول کے لیے مخلص تھے اور اپنی زندگی میں انصاف اور خدا ترسی کے راستہ پر قائم رہے۔ اس گروہ میں دور اول کے بھی کافی لوگ ہوں گے اور دور ثانی کے بھی کافی لوگ۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔original + quote

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔original + quote

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔

موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔