Tazkirul Quran (Urdu)

64. At-Taghaabun

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔original + quote

انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔original + quote

انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔original + quote

انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔original + quote

انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357 انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔original + quote

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔

قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔