Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اصل رکاوٹ p. 191
کہا جاتا ہے کہ اسلامی دعوت کے حق میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسلامی اعمال والے لوگ نہیں۔ عام انسان صرف مثال کے ذریعہ انقلابی تاثر قبول کر تا ہے ، نہ کہ علمی بحثوں اور عقلی دلیلوں کے ذریعے۔ مگر ہماری بے بسی یہ ہے کہ ہم مدعو سے یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ— دیکھو یہ ہے اسلامی انسان، دیکھو یہ ہے اسلامی گھرانا، دیکھو یہ ہے اسلامی جماعت۔ p. 191
یہ بات ظاہر نہایت درست معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ آدھی صداقت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قول کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ عمل کی مطابقت شامل نہ ہو۔ اس اعتبار سے داعی کو بلاشبہ باعمل ہونا چاہیے۔ مگر یہ نہایت سادگی کی بات ہوگی کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ داعی اگر باعمل ہو تو تمام لوگ فوج در فوج اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ p. 191
یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ تمام انبیاء اپنے عمل کے اعتبار سے معیاری انسان تھے۔ وہ بلاشبہ مثالی کردار کے حامل تھے۔ پھر کیا ان نبیوں کو دیکھ کر سارے لوگ جوق درجوق ان کے مومن بن گئے۔ قرآن بتاتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا ۔ تمام نبیوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کر دیا۔ کردار و عمل کی تمام خوبیوں کے باوجود وہ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ (یٰس،36:30) p. 191original + quote
حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو اختیار کرنے میں اصل رکاوٹ داعی کا عمل نہیں بلکہ مدعو کی مفاد پرستی ہے۔ داعی کی بات کو ماننے کے لیے لوگ اس لیے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی بات ماننے سے لوگوں کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ ان کی اَنا کا بُت ٹوٹتا ہے۔ ان کے مفادات اور مصلحتوں کا تانا بانا منتشر ہوتا ہے۔ اپنی بنی بنائی زندگی کو توڑ کر ازسرِ نَو ایک نئے نقشے پر زندگی کی تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ خاندانی روابط، سماجی تعلقات اور قومی بندھنوں کا سارا ڈھانچہ بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ p. 191
حقیقت یہ ہے کہ لوگ خودپرست ہیں، اس لیے وہ خدا پرست بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ نسلِ انسانی کے سب سے بہتر اور مثالی افراد(انبیاء علیہم السلام) کا بھی لوگوں نے اعتراف نہیں کیا، بلکہ حقارت کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیا۔ p. 191
COVER TEXT p. 191
اسلام میں زندگی کا جو تصور دیا گیا ہے،وہ یہ ہے کہ اس دنیا کے بنانے والے نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ عُسر کے ساتھ یُسر موجود رہتا ہے۔ایک اعتبار سےاگر مشکل ہو تو دوسرے اعتبار سے آسانی بھی یہاں ضرورپائی جائے گی۔اسی کا نام اسلامی حکمت ہے۔اسلامی حکمت عُسر میں یُسر کو دیکھتی ہے۔اس کا تعلق ایک شخص کی ذاتی زندگی سےبھی ہے،اورپوری ملّت کی اجتماعی زندگی سے بھی۔زیرِ نظر کتاب اسی اسلامی حکمت کو بیان کرتی ہے۔ p. 191