Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ابتدائی عمل p. 160
کپڑے کی صنعت سے جو بے شمار کام متعلق ہیں ان میں سے ایک اہم کام کپڑے کی رنگائی ہے۔ مثلاً بہت سی ساڑیاں ابتداء ًکپاس کے سادہ رنگ میں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان پر رنگ چڑھا کر ان کو جاذب بنایا جاتا ہے۔ رنگائی کا یہ کام اس طرح نہیں ہوتا کہ بنی ہوئی ساڑی کو لے کر رنگ کے حوض میں ڈال دیا۔ اگر ایسا کیا جائے تو کبھی اچھا رنگ نہیں آئے گا۔ رنگائی کرنے سے پہلے سادہ ساڑی کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تیاری کے اس عمل کی تکمیل کے بعد ہی کپڑا اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو رنگائی کے آخری مرحلہ میں داخل کیا جائے۔ p. 160
اس پیشگی عمل کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کپڑے کو نرم کرنا، داغ دھبہ مٹانا، اس کو سفید بنانا۔ اس سے کپڑے کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ رنگ کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکے۔ ان پیشگی تیاریوں کا ،بعد کی رنگائی اور چھپائی سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ یہ معلوم کیا گیا ہے کہ رنگے ہوئے کپڑوں کی 70 فیصد خرابیوں کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ابتدائی کپڑے کو ناقص طور پر تیار کیا گیا تھا p. 160
‘‘These pretreatments have a major role on subsequent dyeing, printing and finishing of cotton fabrics. In fact, it has been reported that 70% of all the defects occurring on dyed-finished fabrics could be attributed to the imperfect preparation of the base fabrics.’’ p. 160
(Monthly Colourage, December 1,1983) p. 161
کپاس اور کپڑے کا یہ مزاج براہ راست خدا وند عالم کا پیدا کیا ہوا ہے۔ یہ ایک عالمی قانون ہے جس سے موافقت کرکے انسان اپنی پسند کے کپڑے تیار کرتا ہے۔ اس طرح گویا خدا نے ایک نشانی قائم کر دی ہے جو بتا رہی ہے کہ زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ زندگی کی تعمیر میں بھی ضروری ہے کہ پہلے تیاری کے مراحل طے کیے جائیں۔ تیاری کی شرطیں پوری کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہےجب کہ اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کی جائے اور وہ کامیابی حاصل کی جائے جو مطلوب ہے۔ ابتدائی مراحل طے کیے بغیر کبھی آخری منزل نہیں آتی۔ p. 161