Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں p. 181
چودھویں صدی ہجری میں ساری مسلم دنیا میں بے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں۔ مگر ضمنی فرق کے باوجود یہ تمام تحریکیں ردّعمل کی تحریکیں تھیں ، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت تحریکیں۔ جدید مسلم قیادت’’مغرب‘‘ کے نام سے جس چیز سے واقف ہوئی وہ صرف یہ تھا کہ یہ ایک حملہ آور قوم ہے جو ہمارے لیے سیاسی چیلنج بن کر اٹھی ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر رہے کہ مغرب دراصل کچھ جدید قوتوں کی دریافت کا نام ہے اور یہ قوتیں اسلام کے لیے عین مفید ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر خود اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسلم تحریکیں نئے امکانات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، وہ جدید قوموں کے مقابلے میں صرف ایک منفی رول ادا کرکے رہ گئیں۔ p. 182
اس صورت حال کا مزید نقصان یہ ہوا کہ دوسری قوموں سے ہمارا صحیح اسلامی رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ مسلمان کے لیے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر مذکورہ منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے ان قوموں کو مدعو نہ سمجھا، ان کو صرف حریف کی نظر سے دیکھا۔ اسلامی تحریکیں پیغامِ آخرت کی تحریکیں نہ رہیں بلکہ پیغامِ سیاست کی تحریکیں بن گئیں۔ ان تحریکوں نے انداز کے فرق کے ساتھ، جدید دنیا کو جس’’اسلام‘‘ سے واقف کرایا وہ محض ایک قسم کا قومی اسلام تھا ، نہ کہ خدا کا وہ دین جو انسانوں کو آخرت کی ابدی کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے آیا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق حریف اور مدِّمقابل کا تعلق بن کر رہ گیا۔ p. 182
یہ مسلم تحریکیں اپنی جس معذوری کی وجہ سے’’مغرب بحیثیت استعمار‘‘ اور ’’مغرب بحیثیت جدید قوت‘‘ کو الگ الگ کرکے نہ دیکھ سکیں، اسی معذوری کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ انہوں نے جدید قوموں کے خلاف اپنی مہم میں نہ تو نئی قوتیں فراہم کیں اور نہ نئے حالات کی رعایت کی۔ حددرجہ نادانی کے ساتھ سو سال سے بھی زیادہ عرصے تک جان و مال کی قربانیاں دی جاتی رہیں جبکہ ان قربانیوں کے لیے قطعی طور پر مقدر تھا کہ اسباب کی اس دنیا میں وہ بالکل رائگاں ہو کر رہ جائیں۔ اس طویل غیر حقیقت پسندانہ سیاست کی اب یہ نفسیاتی قیمت مسلمانوں کو دینی پڑ رہی ہے کہ پوری کی پوری مسلم دنیا ایک قسم کے فرضی جنون ِعظمت (paranoia) کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور اب کوئی حقیقت پسندانہ بات اسے اپیل ہی نہیں کرتی۔ p. 182