Dawat Ilallah

امت کی ذمہ داری

Dawat Ilallah — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (15 chapters)
  1. دعوت الی اللہ امت مسلمہ کی ذمہ داری
  2. امت کی ذمہ داری
  3. لازمی فریضہ
  4. دعوت الی اللہ کا کام
  5. دعوت اور عمل
  6. ہر گھر دعوتی مرکز
  7. ہجرت برائے دعوت
  8. قرآن کتابِ دعوت
  9. مسجد وار دعوت
  10. دعوت اور دعا
  11. نتیجہ خیز عمل
  12. اخوانِ رسول کا رول
  13. اختلاف کو عذر بنانا
  14. رائے کی قربانی
  15. ہندوستان میں دعوت الی اللہ

قرآن کی سورہ الانعام میں ارشاد ہوا ہے: "تم پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے، کہو اللہ۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں، اور اس کو جس کو یہ قرآن پہنچے۔ " لِأُنذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ سورہ نمبر 6، آیت 19۔

اس آیت میں پیغمبر کی زبان سے یہ کہا گیا ہے کہ "مجھ پر قرآن اتارا گیا ہے تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کروں، اور اس کو جس کو یہ قرآن پہنچے۔ " پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے لوگوں تک براہ راست طور پر خود اپنی کوشش سے قرآن کے پیغام کو پہنچایا تھا۔ اب آپ کے بعد آپ کی امت آپ کی نیابت میں پیغام رسانی کا یہ کام انجام دے گی۔ ہر دور کے افرادِ امت اپنے زمانے کی انسانی نسلوں کے سامنے قرآن کی تبلیغ کا یہ کام انجام دیتے رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔

اس سلسلے میں جو ذمہ داری پیغمبر کی تھی، ٹھیک وہی ذمہ داری اب امت پر عائد ہو چکی ہے۔ امت کو ہر حال میں قرآن کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس معاملے میں امت، خاص طور پر امت کے علماء کو، اس آخری حد تک جا کر یہ ثبوت دینا ہے کہ وہ عام انسانوں کی ہدایت کے حریص بن گئے ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو اس کام میں اتنا زیادہ شامل کرنا ہے کہ بظاہر محسوس ہونے لگے کہ شاید وہ اس کوشش میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔

سورہ نمبر 18، آیت 6۔ تبلیغ عام کی یہ ذمہ داری جو امت مسلمہ پر ڈالی گئی ہے، اس کی حیثیت اختیاری عمل کی نہیں ہے کہ چاہے اس کو کیا جائے یا اس کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کو ہر حال میں ادا کرنا ہے۔ جس طرح پیغمبر کے لیے اس معاملے میں کوئی عذر قابلِ قبول نہ تھا، اسی طرح آپ کی امت کے لیے بھی اس معاملے میں کوئی عذر قابلِ قبول نہ ہوگا۔

حتیٰ کہ بظاہر دوسرے دینی اعمال بھی امت کی نجات کے لیے کافی نہیں ہو سکتے، اگر وہ دعوت عام کے اس فریضے کو چھوڑے ہوئے ہوں۔ ہزاروں انسان ہر روز مر رہے ہیں۔ اس طرح وہ اس موقع سے محروم ہو رہے ہیں کہ انہیں خدا کی بات بتائی جائے، اور وہ اس کو قبول کر کے خدا کی پکڑ سے بچ سکیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا لازمی فریضہ ہے کہ وہ ہر عذر کو چھوڑ کر دعوت الی اللہ کی اس مہم کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ p. 20