Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انسانی اندازے کتنے غلط ہوتے ہیں۔ ام عبداللہ بنت ابی حسمہ بیان کرتی ہیں کہ ہجرتِ حبشہ کے وقت وہ سفر کی تیاری کر رہی تھیں۔ عمر ابن خطاب، جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے، ادھر سے گزرے؛ اس وقت تک وہ مسلمانوں کے اوپر ظلم کرنے میں انتہائی سخت تھے۔ عمر نے کہا: "إنه لانطلاقي، يا أم عبدالله." اے ام عبداللہ، کیا روانگی ہو رہی ہے؟
ام عبداللہ نے کہا: خدا کی قسم، ہاں، تم لوگ ہمارے اوپر مصیبت ڈال رہے ہو۔ ہم خدا کی زمین میں نکل جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دے۔ عمر نے یہ سن کر کہا: خدا تمہارا ساتھ دے۔ "صحبکم الله." یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت طاری ہو گئی۔
یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ اس کے بعد ام عبداللہ کے شوہر آئے، جو کسی ضرورت سے باہر چلے گئے تھے۔ ام عبداللہ نے ان سے عمر کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے شوہر نے کہا: "فلا يسلم الذي رأيتِ حتى يسلم حمار الخطاب." سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 343۔
یعنی یہ شخص اسلام قبول کرنے والا نہیں، یہاں تک کہ خطاب کا گدھا بھی مسلمان ہو جائے۔ مگر یہی عمر ابن الخطاب اس کے تھوڑے دنوں بعد مسلمان ہو گئے، اور انہوں نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی۔ انسان اکثر اندازہ کرنے میں غلطی کرتا ہے، اگرچہ ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اس کا اندازہ بالکل درست ہے۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔