Al-Risala April 2010

قناعت، عدم قناعت

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

قناعت، عدم قناعت

خدا نے جس منصوبے کے تحت، انسان کو پیدا کیا ہے، اس کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں (periods)میں بٹی ہوئی ہے۔ اِن میں سے ایک کو دنیا کہا جاتا ہے، اور دوسرے کو آخرت۔ اِس طرح، ہر انسان کو دو تقاضوں کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایک تقاضاتعمیر دنیا کا ہوتا ہے اور دوسرا تقاضا تعمیر آخرت کا تقاضا۔

یہاں یہ سوال ہے کہ اِن دونوں تقاضوں کے درمیان کس طرح موافقت پیدا کی جائے، زندگی کا وہ نقشہ کیا ہے جس میں دونوں تقاضوں کی رعایت موجود ہو۔ اِس کا قابلِ عمل فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے— دنیا کے معاملے میں قناعت، اور آخرت کے معاملے میں عدم قناعت۔

انسان کے لیے اپنی موجودہ ساخت کے اعتبارسے یہ ممکن نہیں کہ وہ دونوں تقاضوں کو یکساں درجہ دے۔ وہ دنیا کی چیزوں میں بھی بھر پور توجہ دے، اور آخرت کے معاملے میں بھی بھر پور توجہ دے۔ اِس قسم کی برابری کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔

ایسی حالت میں عملی طور پر صرف یہ ہوسکتا ہے کہ انسان اِس معاملے میں ترجیح (priority) کا طریقہ اختیار کرے، یعنی وہ دونوں میں سے ایک کو اوّلین (primary) اہمیت دے، اور دوسرے کو وہ ثانوی (secondary) درجے میں رکھے۔

اِس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کے معاملے میں قناعت (contentment) کا طریقہ اختیار کرے، اور آخرت کے معاملے میںعدم قناعت (discontentment) کا طریقہ، یعنی دنیا کی چیزوں کے معاملے میں اُس کا مزاج یہ ہو کہ جو کچھ آخرت کا نقصان کیے بغیر مل جائے، اُس کو وہ کافی سمجھے۔ جہاں تک آخرت کا معاملہ ہے، اپنی زیادہ سے زیادہ توجہ اور اپنی زیادہ سے زیادہ توانائی وہ اس کے حصول میں لگا دے— دنیا کے معاملے میںوہ کم پر راضی ہوجائے، اور آخرت کے معاملے میں وہ زیادہ سے زیادہ کے لیے کوشش کرتا رہے۔