Al-Risala April 2010

سیاسی فتنہ

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

سیاسی فتنہ

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ ہدایت دی کہ تم لوگ سیاسی بگاڑ کے مسئلے کو لے کر حکمرانوں سے ہر گز ٹکراؤ نہ کرنا۔ اِس سلسلے میں حضرت ثوبان بن یجدد کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: إذا وُضع السیف فی أمّتی، لم یُرفع عنہا إلی یوم القیامۃ (رواہ احمد وابو داؤد، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 5406 )یعنی جب میری امت کے اندر تلوار داخل کی جائے گی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہیں جائے گی۔original + quote

اِس حدیث میں سادہ طورپر صرف ایک اخلاقی تعلیم نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک نہایت گہری سیاسی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ اگر چہ اِس حکمت کو پوری تاریخ میں کوئی شخص دریافت نہ کرسکا۔ اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ امت کے اندر حضرت عثمان کے زمانے میں تلوار داخل ہوئی تو اب تک وہ امت سے رفع نہ ہوسکی۔

جن مسلمانوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا، انھوں نے کیوں ایسا کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کو حضرت عثمان آئڈیل سیاست کے معیار پر کم دکھائی دئے۔ مگر یہ معاملہ حضرت عثمان پر نہیں رکا۔ اس کے بعد دوبارہ سیاسی معیار کو لے کر حضرت علی کو شہید کردیاگیا، اِسی معیار کی بنیاد پر لوگوں نے حضرت معاویہ سے جنگ کی، اِسی معیار کی بنیاد پر حضرت حسین کا ٹکراؤ یزید کے ساتھ پیش آیا، وغیرہ۔

اصل یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیامیں کوئی بھی سیاسی نظام آئڈیل نہیںہوسکتا۔ سیاسی نظام کے معاملے میں ہمارے لیے صرف ایک ہی ممکن انتخاب ہے، وہ یہ کہ سیاسی نظام کو آئڈیل سے نہ ناپیں، بلکہ آئڈیل سے کم (less than ideal) پر راضی ہوجائیں۔ ایسا نہ کیا جائے تو ایک حکمراں کو ہٹانے کے بعد جو دوسرا حکمراں آئے گا، وہ بھی لوگوں کو آئیڈیل سے کم دکھائی دے گا، اِس طرح نئے حکمراں سے دوبارہ لڑائی شروع ہو جائے گی اور پھر وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اِس معاملے میں پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کا طریقہ اختیار کرو، اور موجودہ حکمراں پر راضی رہتے ہوئے غیر سیاسی دائرے میں تعمیر اور ترقی کا کام جاری رکھو۔original + quote