Al-Risala April 2010

آخرت کا ائرپورٹ

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

آخرت کا ائرپورٹ

ایک بار میں ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہوئے ایک ائر پورٹ پر اترا۔ میںاور دوسرے اکثر مسافر ضروری مراحل سے گزرتے ہوئے باہر آگئے، لیکن چند مسافر ایسے تھے جن کو ائر پورٹ پر روک لیاگیا۔ اُن سے کہا گیا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے، آپ لوگوں کی خصوصی چیکنگ ہوگی۔ ان افراد کے بارے میں کوئی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کی وجہ سے ائر پورٹ کے عملہ نے اُن کے ساتھ ایسا کیا۔ ائر پورٹ پر یہ منظر دیکھ کر مجھے قرآن کی ایک آیت یاد آئی۔ وہ آیت یہ تھی: وقفوہم، إنہم مسئولون (الصّافات: 24 ) یعنی ان لوگوں کو ٹھہراؤ، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔original + quote

غور کیجئے تو زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسان جس زمین پر آباد ہے، وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ گویا کہ ہم ایک ایسے ہوائی جہاز پر سوار ہیں جو تیزرفتاری کے ساتھ ایک ا ئر پورٹ کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ ائر پورٹ آخرت کا ائر پورٹ ہے۔ ایک وقت آئے گا، جب کہ تمام انسان آخرت کے ائر پورٹ پر اتار دئے جائیں گے۔یہاں یہ واقعہ ہوگا کہ کچھ لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم یہاں ٹھہرو، تم سے ابھی پوچھ گچھ ہونے والی ہے۔ دوسری طرف، کچھ ایسے خوش نصیب لوگ ہوں گے جن کا استقبال فرشتے یہ کہہ کر کریں گے: سلام علیکم، طبتم، فادخلوہا خالدین (الزمر: 73 ) یعنی تم پر سلامتی ہو، تم شاد رہو، پس ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔original + quote

یہ صورتِ حال سارے انسانوں کے ساتھ پیش آنے والی ہے۔ دنیا کے سفروں کا وقت مقرر رہتا ہے، لیکن آخرت کے اس سفر کا وقت مقرر نہیں۔ کسی بھی لمحہ انسان کے اوپر وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ زندگی کا جہاز آخرت کے ائر پورٹ پر اتر جائے اور پھر وہاں کچھ لوگ پوچھ گچھ کے لیے روک لئے جائیں اور کچھ لوگوں کو فرشتے خوش آمدید کہتے ہوئے جنت میں داخل کردیں۔ بلاشبہہ یہی وہ سب سے بڑی بات ہے جس پر ہر عورت اور مرد کو سوچنا چاہئے، اور جس کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہیے۔ آنے والاوقت اعلان کے بغیر کسی بھی وقت آجائے گا اور پھر کسی کے لیے یہ موقع نہ ہوگاکہ وہ لوٹ کر دوبارہ پیچھے کی طرف جاسکے۔