Al-Risala April 2010

ربّانی دعاء

Al-Risala April 2010 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2010
  2. عجز اور اختیار
  3. ایک انسانی کمزوری
  4. موت کی یاد
  5. آخرت کا ائرپورٹ
  6. قرآن میں غور وفکر
  7. دوانتظامات
  8. ربّانی دعاء
  9. خیر ِ امت
  10. کتمانِ حق
  11. موت کا سبق
  12. معرفتِ اعلیٰ کی مثال
  13. دل ایک معجزہ
  14. موت کا زندہ تصور
  15. ذہنی افق
  16. گرہن ایک خدائی معجزہ
  17. دورِ جدید کا شجرِ ممنوعہ
  18. کارٹونسٹ کے لیے تحفہ
  19. سیاسی فتنہ
  20. امن، انصاف
  21. بچوں کا بگاڑ
  22. مواقع سے بے خبری
  23. زمین کی زرخیز سطح
  24. صحیح مشورہ
  25. قناعت، عدم قناعت
  26. اپنے آپ کو جانئے
  27. نفسیاتی خود کشی سے بچئے
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 201

ربّانی دعاء

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم سے جب یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھالیا تو اچانک وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کو سخت ندامت ہوئی اور انھوں نے اللہ سے معافی کی دعاء کی۔ اِس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: فتلقّی آدم من ربّہ کلمات فتاب علیہ، إنہ ہو التواب الرحیم (البقرۃ: 37 )۔original + quote

اِس آیت میں تلقّی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تلقّی کے لفظی معنی ہیں ملنا (to receive)، یعنی آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات اخذ کئے ، پھر اس کے مطابق، دعاء کی تو اللہ نے ان کی دعاء کو قبول فرمایا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اِس تلقّی کی صورت کیا تھی۔اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے آواز دے کر آدم کو بتایا، یا کوئی فرشتہ آیا اور اس نے انھیں اِن کلمات کی تلقین کی۔یہاں اِس قسم کا مفہوم لینا درست نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ الہام (inspiration) کا ایک معاملہ تھا۔ اِسی طرح کے معاملے کی بابت امام مالک بن انس نے کہا ہے: نورٌ یُلقیٰ فی قلب المؤمن۔یعنی یہ ایک روشنی ہے جو مومن کے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ جب کسی بندے پر شدید انابت طاری ہوتی ہے، وہ گریہ و زاری کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، وہ آخری حد تک اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے، اُس وقت نفسیات کی سطح پر اس کے اوپر ربّانی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ یہ کیفیات کچھ خاص الفاظ میں ڈھل جاتی ہیں۔ اِسی کو ربانی دعا کہاجاتا ہے۔اس قسم کی ربانی دعا ء اپنے آپ میں قبولیت کی پیشگی خبر ہوتی ہے۔original + quote

اِس قسم کی ربانی دعاء کی توفیق کس کو ملتی ہے۔ یہ توفیق اُس شخص کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو کامل عبدیت کے مقام پر پہنچائے، جو اِس حقیقت کو کامل سطح پر دریافت کرے کہ وہ پانے والا ہے اور خدا دینے والا۔ اِس قسم کا گہرا احساس جب آدمی کے اوپر طاری ہو تو وہ ایک ایسا لمحہ ہوتاہے جب کہ بندے کا خصوصی تعلق اللہ سے قائم ہوجاتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے ذکر ودعاء کے الہامی الفاظ نکلنے لگتے ہیں۔ اِسی کا نام ربانی دعاء ہے۔