← back to tawakkul · Tameer-e-Insaniyat

Izafa-e-abadi ka hawwa

Tameer-e-Insaniyat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (130 chapters)
  1. Bab Avval
  2. Insan ki talash
  3. Eik Jayeza
  4. Islam eik nemat
  5. Islam naya mazhab nahi
  6. Deen-e-Kainaat
  7. Chand misalen
  8. Tauheed- Insaniyat ki manzil
  9. Tauheed aur Shirk
  10. Tauheed ki haqeeqat
  11. Khuda kainaat ka nur
  12. Tauheed aur Shirk ka farq
  13. Paighambaron ka mission
  14. Science ke daur me
  15. Bab duvvam
  16. Mazhab-e-Ummeed
  17. Sachchaii ka yaqeen
  18. Zindagi eik qeemti mauqa
  19. Dono halaton me sabr
  20. Dushman me dost
  21. Sabr ka fayeda
  22. Maut khatima-e-hayaat nahi
  23. Eik anokhi khushkhabri
  24. Qanaat eik nemat
  25. Takleef me raahat
  26. Tawakkul aur etemaad
  27. Nakhushgawari me khushgawar pahlu
  28. Kamzor aur taqatwar
  29. Mushkil me asani
  30. Khubi talash karo
  31. Fitrat ka nizam
  32. Aqalliyat ke liye khushkhabri
  33. Mohabbat fateh-e-aalam
  34. Hazrat Yousuf ki misaal
  35. Hazrat Maseeh ki misaal
  36. Islam ki taleem
  37. Khulasa-e-kalam
  38. Baab Suvvam
  39. Chand Nikaat
  40. Ittehad-e-Insaniyat
  41. Wahdat ka raaz
  42. Azeem noqsaan
  43. Conversion ka masala
  44. Islam aur conversion
  45. Conversion - Eik aafaakhi usul
  46. Conversion ki haqeeqat
  47. Sehhatmand muqabala
  48. Conversion -Eik sehatmand tareekhi amal
  49. Dastur - Ghair zaruri tiwalat
  50. Yaksan civil code
  51. Nehru report
  52. Supreme court
  53. Dastur ki dafa 44
  54. Mazhabi azadi eik lazimi haq
  55. Mazhab aur personal low
  56. Common code aur qaumi eikta
  57. Bahami tafreeq british ki dain
  58. Yaksan code yaksaniat ka zaria nahi
  59. Danishvarane qaum ka radde amal
  60. Guru Golwalkwer ke khayalaat
  61. Fitrat ka nizam
  62. Qabil-e-amal nahi
  63. Qanun ki mahdudiat
  64. Tabdil-e-mazhab ka masala
  65. Dafa 44 qabil-e-hazaf
  66. Uniculture nation ya multiculture nation
  67. Izafa-e-abadi ka hawwa
  68. Musawat nahi adjustment
  69. Hindu biradariyon ka riwaj
  70. Asl zarurat-National character
  71. Taleem ki ahmiat
  72. Musalmanon se khitaab
  73. Baab Chaharum
  74. Bab chaharum
  75. Eslaah ki Taraf
  76. Eik Mulhid ka Eteraaf
  77. Taraqqi aur Ittehaad
  78. Linen aur Ataturk
  79. Chand Misalen
  80. Quran ki Rahnumai
  81. Do Pahlu
  82. Qabil-e-Pation Goi Kirdaar
  83. Kasrat me Vahdat
  84. Hayatiyati Ukhuvvat
  85. Tanavvo ka Usool
  86. Hadbandi ka Nizaam
  87. Adna se Aala
  88. Tabdili ka Usool
  89. Eik Misaal
  90. Eiktarfa Tareeqa
  91. Tameer ki Taraf
  92. Hitler ka Urooj kis tarah hua
  93. Tareekh ka Sabaq
  94. Dusri Misaal
  95. Hamar-e-liye Sabaq
  96. Waqt ki Zarurat
  97. La Qanuniyat ka Masalah
  98. Tameer-e-Qaum ki Zarurat
  99. Baab Panjum
  100. Islam ka Role
  101. Mazhabi Eslaah
  102. Secular Ulum ki Bunyad Azadana research par qayem karna
  103. Aqeeda aur Maadiyat ki alahedgi
  104. Tavahhumaat ka khatima
  105. Elm ki Umumi Ishaat
  106. Jabr ka khatima aur Azadi ka Aaghaaz
  107. Akhlaqiyyaat ki Takmeel
  108. Pur Amn Jidd-o-Johd ki Taleem
  109. Jumhuri daur ka aaghaaz
  110. Inquilab ka namuna qayem karna
  111. Namuna-e-Insaniyat
  112. Etemad-o-Tawakkul
  113. Nakhushgavariyoun par Sabr
  114. Ezaaz ke bajaye Zimmedari
  115. Mabud ki Yaktai
  116. Haq ke aag-e-Dah padna
  117. Sada Zindagi
  118. Ehteraam-e-Insaniyat
  119. Be Gharzi
  120. Awam aur Hakim ke darmiyan Qanuni Barabari
  121. Haqeeqat Pasandi
  122. Adl-o-Insaaf
  123. Islam ka Role
  124. Mustaqbil ki Qiyaadat
  125. Eik Qurani Aayat
  126. Hindustani Musalmani
  127. Eik Misaal
  128. Bisvin Sadi ka Jayeza
  129. Naye Groh ki Zarurat
  130. Laiha-e-Amal

اضافۂ آبادی کا ہوا۔ متعدد سینئر شہریوں نے یہ بات کہی کہ شادی بیاہ کا معاملہ انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اگر کوئی کمیونٹی چاہتی ہے کہ اسی نجی معاملے میں وہ اپنے روایتی طریقے پر قائم رہے، تو اس میں دوسری کمیونٹی والوں کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت؟ اس واضح نامعقولیت کے باوجود، کچھ انتہا پسند پولیٹیکل عناصر کیوں یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اتنا زیادہ شور و غل کر رہے ہیں؟

حتیٰ کہ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں ان کا اصل انتخابی ایشو، یعنی مین پول تھیم، یونیفارم سول کوٹ کا مسئلہ ہوگا۔ The Hindustan Times, 17 July 1995. جبکہ یقینی طور پر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سول کوٹ کی بنیاد پر خانون بنانے کا عملاً کوئی امکان نہیں۔ اس جوش و خروش کا سبب خود یونیفارم سول کوٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔

یہ عناصر انتہائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اگلی صدی کے نصف اول میں یہ واقعہ ہونے والا ہے کہ مسلمان یہاں اکثریت میں ہو جائیں اور ہندو خود اپنے ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے انہوں نے ایک پرفریب نظریہ وضع کیا ہے۔ وہ اکثریتی فرقے کے عوام سے کہتے ہیں کہ دیکھو، آزادی کے بعد بننے والی گورنمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ 1955 کے ذریعے ہندوؤں کو تو قانونی طور پر پابند کر دیا کہ وہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں، مگر مسلمانوں کا جو پرسنل لا ایکٹ 1860 ہے، اس کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ 4 بیویاں رکھے۔ ہندو کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے، مگر مسلمان کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔

اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو کے مقابلے میں مسلمان 4 گنا زیادہ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں کی آبادی اگر 1، 2، 3، 4 کی رفتار سے بڑھے گی تو مسلمانوں کی تعداد 4، 8، 16، 32 کی رفتار سے بڑھتی چلی جائے گی۔ اپنے سیاسی حریف کی اس طرح بھیانک تصویر دکھا کر یہ لوگ ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔ وہ ہندو عوام سے کہہ رہے ہیں کہ اس ہندو-ورودھی سرکار کے خلاف ووٹ دے کر اس کو باہر پھینک دو۔

Throughout this anti-Hindu government. یہ پروپیگنڈا بلاشبہ آخری حد تک بے بنیاد ہے۔ مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔ میری عمر 73 سال ہو چکی ہے، مگر اس پوری مدت میں میرے علم میں کوئی ایک بھی ہندوستانی مسلمان نہیں آیا جس نے 4 شادیاں کر رکھی ہوں۔

حتیٰ کہ ایسا کرنا ممکن بھی نہیں، کیونکہ تمام مسلمان 4 شادیاں اس وقت کر سکتے ہیں جبکہ ان کے یہاں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد 4 گنا زیادہ ہو، یا ان کے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو جہاں وہ زیادہ عورتیں پیدا کر سکیں۔ مگر موجودہ مسلم سماج میں نہ تو عورتیں زیادہ ہیں اور نہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔ ایسی حالت میں ان کے لیے کیوں کر ممکن ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص 4، 4 بیویاں رکھے؟ مسٹر بلراج پوری کا ایک پیراگراف اس سلسلے میں نقل کرنے کے قابل ہے: "اس خدشے کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازواج کے حق میں خانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعے سے ثابت نہیں ہوتا۔

" اس خدشے کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازواج کے حق میں خانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعے سے ثابت نہیں ہوتا۔ عورت کی حیثیت کے بارے میں نیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، تعدد ازواج فی الحقیقت دوسرے فرقوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر کم ہے۔ اس کا دوسرا مقدمہ کہ تعدد ازواج مسلمانوں کی آبادی کو زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھائے گا، منطقی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے قابل عورتوں کی تعداد چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے، اگر کچھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو بہت سے مردوں کو بیویاں ہی نہیں ملیں گی۔

کسی فرقے میں غیر شادی شدہ مردوں کی کثیر تعداد کسی بھی طرح اس فرقے کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔ واضح طور پر 4 آدمی 4 بیویوں کے ساتھ زیادہ بچے پیدا کریں گے، بمقابلہ اس کے کہ ایک ہی مرد کے ساتھ 4 بیویاں ہوں۔ اس طرح تعدد ازواج کا طریقہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو گھٹانے والا ہے، نہ کہ اس کو بڑھانے والا۔ Indian Express, 6 July 1995.

تقریباً یقینی ہے کہ مذکورہ انتہا پسند سیاسی عناصر اگلے الیکشن میں ہندو ووٹروں سے کہیں گے کہ دیکھو، دستور کی دفعہ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود مسلمان یکساں سول کوڈ بنانے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ ایسا قانون بنانے کے مخالف اس لیے ہیں کہ اس کے بعد انہیں 4 شادیوں کی اجازت نہیں رہے گی، اور اس طرح وہ اپنی آبادی بڑھانے اور ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بارے میں اپنے منصوبے کی تکمیل نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ہمیں ووٹ دے کر ہم کو اقتدار تک پہنچاؤ، تاکہ ہم اس خطرے کو دفع کر سکیں۔ مگر اس پروپیگنڈے کا بے بنیاد ہونا ہی اس کے لیے کافی ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب نہ ہو۔

ملک کا سب سے بڑا اخبار ٹائمز آف انڈیا ہر روز اپنے پہلے صفحے پر اس خانونِ فطرت کا اعلان کرتا ہے کہ سچائی غالب آتی ہے، یعنی "Let truth prevail"۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔