Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عظیم نقصان: "تمام مذاہب سچے ہیں" کا نظریہ کوئی بے خطر نظریہ نہیں، اس میں ایک عظیم نقصان چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ مذہب کے نام سے لوگوں کے پاس آخرکار صرف عصبیت باقی رہے۔ بہت سے لوگ ہمیشہ کے لیے سچے مذہب کی نعمت سے محروم ہو جائیں۔ مذہب کے سوا دوسرے معاملات میں ڈائیلاگ اور بحث و مباحثے کو پسند کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اصل حقیقت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔
مثلاً کچھ لوگ اپنے باپ دادا سے سن کر اگر یہ مان لیں کہ زمین چوکور ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ ان کے جذبات اتنے زیادہ وابستہ ہو جائیں کہ وہ اس موضوع پر بحث کو پسند نہ کریں، تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ وہ زمین کی اصل حقیقت کے بارے میں ہمیشہ اندھیرے میں رہیں گے۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان بنیادی اختلافات ہیں۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب سچے ہیں، تو اس کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ لوگ محض عصبیت کے تحت اپنے اپنے آبائی مذہب سے جڑے رہیں گے اور حقیقی مذہب تک کبھی نہیں پہنچیں گے۔
مذہب انسان کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس سے انسان کا مستقبل بندھا ہوا ہے۔ "تمام مذاہب سچے ہیں" کا نظریہ لوگوں کو جس نتیجے تک پہنچائے گا، وہ یہ کہ لوگ مذہب کے نام پر محض اپنی عصبیتوں سے جڑے رہیں گے اور حقیقی مذہب کی نعمت سے کبھی آشنا نہ ہوں گے۔ کتاب: تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 82۔