Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اسکائی از دی لمٹ p. 121
مسٹر پربھاش جوشی نے اندور کے سفر (مئی 1993ء) میں ایک واقعہ 1976ء کا بتایا۔ یہ ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ رام ناتھ گوئنکا کا اخبار انڈین ایکسپریس ہمیشہ ایمرجنسی کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ چنانچہ کانگرس گورنمنٹ اس کی سخت مخالف ہو گئی۔ ان کا اکائونٹ منجمد کر دیا گیا۔ سنجے گاندھی نے تمام بینکوں کو ٹیلیفون کر دیا کہ کوئی بھی گوئنکا کو پیسہ نہ دے۔ چنانچہ ایسا وقت آ گیا کہ 10-5 ہزار روپیہ کی رقم بھی گوئنکا کے لیے مشکل ہو گئی۔ اسی زمانہ میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر مسٹر ملگائوکر کاچک بینک سے یہ لکھ کر واپس آ گیا کہ کھاتہ میں رقم موجود نہیں۔ p. 121original + quote
گھنشیام داس برلا اس وقت ملک کے نمبر ایک صنعت کار تھے۔ برلا کا تعلق کانگرس سے تھا اور گوئنکا کا تعلق اپوزیشن سے۔ مگر جب برلا کو معلوم ہوا تو وہ فوراً ان کی مدد کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اگر وہ خود گوئنکا سے ملنے کے لیے جائیں تو یہ خبر مشہور ہو گی اور اگر گوئنکا کو اپنے یہاں بلائیں تب بھی لوگ اس کو جان لیں گے۔ اور پھر ان کے لیے گوئنکا کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ برلا نے اپنا ایک آدمی رات کے وقت گوئنکا کے پاس بھیجا۔ برلا نے اس سے کہا کہ گوئنکا کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ وہ اپنے اصول سے نہ ہٹیں، وہ اس پر پوری طرح جمے رہیں۔ جہاں تک پیسہ کا سوال ہے تو میں اس کا انتظام کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ گوئنکا نے آدمی سے کہا کہ تم واپس جائو اور جا کر برلاجی سے کہو کہ میری ضرورت تو بہت زیادہ ہے۔ آپ کتنی رقم کی حد تک میری مدد کر سکتے ہیں۔ برلا نے کہا کہ جا کر میری طرف سے گوئنکا جی کو کہہ دو کہ p. 122
Sky is the Limit. p. 122
وہ دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ کیوں کہ برلا کانگرس میں تھے اور گوئنکا کانگرس مخالف گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ گوئنکا نے برلا سے کوئی رقم تو نہیں لی مگر اس کے بعد وہ برلا کے بہت معتقد ہو گئے۔ ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد گوئنکا کا دور دورہ ہو گیا۔ اس کے بعد برلا کی سالگرہ آئی تو انھوں نے خصوصی اہتمام کے ساتھ ایک ہزار سرخ گلاب کا پھول برلا کی خدمت میں پیش کیا۔ p. 123