Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا p. 102
دو اصحابِ رسول کے درمیان اختلاف کا ایک واقعہ مختلف کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں سَمِعْتُ طَارِقًا يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ كَانَ بَيْنَ خَالِدٍ وَسَعْدٍ كَلَامٌ، فَذَهَبَ رَجُلٌ يَقَعَ فِي خَالِدٍ عِنْدَ سَعْدٍ ، فَقَالَ مَهْ إِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (حلیۃ الاولیاء ،جلد1، صفحہ94)۔ یعنی طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کسی مسئلے پر کچھ تکرار ہوگئی۔ اس کے بعد ایک آدمی نے سعد کے پاس خالد کی برائی کی۔ تو سعد نے کہا ٹھہرو، جو ہمارے درمیان ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔ p. 102original + quote
اختلاف ایک امر فطری ہے۔ لیکن اختلاف کو اسی مسئلے تک محدود رکھنا چاہیے، جو واقعۃً دونوں فریق کے درمیان ہے۔ نزاعی مسئلہ میں دوسرے غیر نزاعی معاملے کو شامل کرنا، ایک ایسی بات ہے، جو غیر اخلاقی ہے، اور غیر شرعی بھی۔ p. 102
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان اگر کوئی نزاع پیدا ہو، تو یا تو اس کو نظر انداز کردیا جائے، اور مسئلے کو مسئلہ بننے سے پہلے ختم کردیا جائے۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو نزاع کو متعلق مسئلے کی حد تک محدود رکھا جائے۔ کسی حال میں اس کو باہر نہ لے جایا جائے۔ p. 102
کوئی نزاع اس وقت بڑھتا ہے، جب کہ اس کو نزاع کی حدسے باہر تک وسیع کیا جائے۔ اگر نزاع کو سختی کے ساتھ اصل نزاعی مسئلے تک محدود رکھا جائے، اور گفتگو کو اخلاقی حدود کا پابند رکھا جائے، تو نزاع غیر مطلوب حد تک وسیع نہ ہوگی۔ مثلا ًمسئلہ لین دین کا ہو، اور اس کو لے کر یہ کہا جائے کہ تمھارا تو پورا خاندان لین دین میں ناقابلِ اعتبار ہے۔ p. 103
منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مسئلے کو مسئلے کی حد تک نہیں رکھتا ، بلکہ مسئلے کو غیرمتعلق باتوں تک لے جاتا ہے (إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 34۔ اس بنا پر مسئلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ نئے نئے نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ پھیل کر غیر متعلق بحثوں تک پہنچ جاتا ہے۔ p. 103original + quote