Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اختلاف کے ساتھ اعتراف p. 108
مولانا حسین احمد مدنی (1879-1957) سیاسی مسلک کے اعتبار سے انڈین نیشنل کانگریس کے حامی تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (1863-1943) کا مسلک اس معاملہ میں مختلف تھا۔ وہ کانگریس کی حمایت کو مسلمانوں کے لیے درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں بزرگوں میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی قدر کرتے تھے۔ p. 108
ایک شخص کا ذہنی سانچہ اگر یہ ہو کہ موقف صرف دو ہوا کرتے ہیں۔ یا کامل موافقت یا کامل مخالفت ، تو وہ دونوں بزرگوں کے اس طریقہ کو’’ زمانہ شناسی‘‘ پر محمول کرے گا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان اگر چہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، مگر ذاتی مفاد کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھے الفاظ بولتے رہے۔ p. 108
مگر جو شخص اسلام کی روح اور مومنانہ مزاج کو جانتا ہو وہ اس کو وسعتِ نظری قرار دےگا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان مخلص تھے۔ دونوں کا دین ایک تھا۔ البتہ بعض مسائل میں دونوں کی رائے ایک دوسرے سے الگ ہوگئی تھی۔ اور اس قسم کا اختلاف انسانوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ہر دور کے مومنین صالحین میں اس قسم کا اختلاف پایا جاتا تھا اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ یہ اختلاف بذات خود کوئی غیر محمود چیز نہیں۔ وہ غیر محمود صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ اختلاف صرف اختلاف نہ رہے ، وہ نفرت اور عناد تک جا پہنچے۔ p. 108
اصحاب ِرسول کے درمیان بہت سے امور میں اختلاف تھا۔ اسی طرح فقہا اور علما میں اور مفسرینِ قرآن اور شارحینِ حدیث میں ہزاروں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اختلافات کا برملااظہار کیا۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک دوسرے کا اعتراف کیا۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرےکی قدر دانی کرتے رہے۔ اس دو طرفہ عمل کا سبب زمانہ شناسی نہیں تھا بلکہ دین شناسی تھا۔ ان کا یہ مسلک مفادِ دنیا کی بنا پر نہ تھا بلکہ خوف ِآخرت کی بنا پر تھا۔ p. 109
اختلاف کے ساتھ اعتراف ایک آدمی کے مومنِ خاشع ہونے کی علامت ہے۔ لیکن بے خبر لوگوں کے لیے وہ مفاد پرستی اور زمانہ شناسی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ p. 109