Haqeeqat-e-Hajj

Fitri andaaz

Haqeeqat-e-Hajj — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Fahrist
  2. Aayaat-0-Ahaadees
  3. Rasulullah ka Hajj
  4. Ek Sabaq
  5. Khutba-e-Hajjatul vida
  6. Haqeeqat-e-Hajj
  7. Khuda ki taraf Safar
  8. Ibaadaton ka Sardaar
  9. Hajj ka Paighaam
  10. Chand Pahlu
  11. Hajj-e-Mabrur
  12. Qabil-e-ghaur
  13. Hajj ek Tareekh saaz Amal
  14. Hajj ki Dawati Ahmiyat,Hajj ki Tareekh
  15. Hajj ek Dawati Idara
  16. Hajj zariye Ittehaad
  17. Hajj ek Zinda Amal
  18. Hajj ki Tanzeem-e-now
  19. Ek Zaruri Shart
  20. Hajj ka Aatifi pahlu
  21. Ilmul Insaan ki Shahaadat
  22. Shaaairullah
  23. Mulaqaat-e-Khudawandi
  24. Musibat me raahat
  25. Ghair mamuli Safar
  26. Faiz baqadr-e-Istedaad
  27. Chand Taassuraat
  28. Tajdeed-e-Deen
  29. Hajj aur Ittehaad
  30. Tauheed ka Aalami Markaz
  31. Umumi ealaan
  32. Fitri andaaz
  33. Hajj ki Ijtemaiyat
  34. Hajj ki Tareekh
  35. Markaz-e-Ittehaad
  36. Parhezgaari ka Sabaq
  37. Mazeed Ehtemaam
  38. Kalaam me Ehtiyaat
  39. Jarihiyat se Parhez
  40. Khud faramushi
  41. Paband Zindagi
  42. Masaail-e-Hajj
  43. Madin-e-ki Haaziri
  44. Mamnuaat-e-Hajj
  45. Istelahaat-e-Hajj
  46. Tarteeb-e-Hajj
  47. Maqaamaat-e-Hajj

فطری انداز۔ اس اہتمام کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ سادہ اور فطری طریقے کو پسند کرتا ہے۔ مثلاً حج کے اعمال میں سے ایک عمل یہ ہے کہ صفا اور مروہ، یعنی پہاڑیوں کے درمیان، سعی کی جائے۔ اس سلسلے میں ایک سوال ترتیب کا تھا، یعنی یہ کہ سعی کا عمل صفا کی طرف سے شروع کیا جائے یا مروہ کی طرف سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر یہ عمل کیا تو فرمایا: "أبدأ بما بدأ الله به" یعنی "میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا"۔ اس سے آپ کا اشارہ قرآن کی اس آیت کی طرف تھا: إِنَّ الصَّفَاءَ وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ البقرہ 158۔ یہ وہ آیت ہے جس میں حاجی کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت کی ترتیبِ بیان یہ ہے کہ اس میں صفا کا لفظ پہلے ہے اور مروہ کا لفظ اس کے بعد ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ترتیبِ بیان ہی کو ترتیبِ عمل بھی بنا لو، تاکہ ایک ترتیب کا یاد رکھنا دوسری ترتیب کے لیے کافی ہو جائے، دو ترتیب الگ الگ یاد رکھنی نہ پڑے۔ حج کو مقامِ اعلان بنانے میں بھی یہی فطری حکمت ہے۔ حج کی عبادت کو ادا کرنے کے لیے تمام دنیا کے مسلمان ہر سال ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، اور ہمیشہ جمع ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اللہ نے اسی کو اجتماعی اعلان کا مقام بنا دیا، تاکہ ایک ہی اجتماع دونوں مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو جائے۔

حج کے موقع پر اجتماعی اعلان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اس کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ حج کا مقام مسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام ہے، اس لیے جو اعلان حج کے مقام پر کیا جائے وہ بھی اپنے آپ لوگوں کی نظر میں مقدس اور محترم بن جائے گا۔ حقیقتِ حج: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 89۔