← back to tawakkul · Al-Risala September 2014

انسانی وجود کی با معنی توجیہ

Al-Risala September 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - September 2014
  2. خدا کا اشارہ پڑھئے
  3. معرفت اور عبادت
  4. سکینہ کیا ہے
  5. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  6. دلیل، الزام تراشی
  7. توکل کی حقیقت
  8. شاکلۂ انسانی کا مسئلہ
  9. آبا پرستی
  10. اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن
  11. وحدت، تنوع
  12. الاخوان المسلمون
  13. کائنات کی توجیہ
  14. کائنات کی وسعت
  15. زندگی اور موت
  16. سبق کی اہمیت
  17. آخرت سے غفلت کیوں؟
  18. عقیدہ آخرت کی طاقت
  19. علم ومعرفت کا حریص
  20. منصوبۂ خداوندی
  21. جانچنے کا معیار
  22. خیر ِ امت یا زوال یافتہ امت
  23. ذاتی عقل، علمی عقل
  24. انسانی وجود کی با معنی توجیہ
  25. مسلم فلسفہ، مسلم الہیات
  26. زندگی کی حقیقت
  27. علمی طرزِ استدلال
  28. علم کی دوقسمیں
  29. سوال وجواب

انسانی وجود کی با معنی توجیہ

ایک شخص کہتا ہےکہ چاند کا سائز ہمارے ایک فٹ بال کے حجم کے برابر ہے- دوسرا شخص کہتا ہے کہ چاند کا سائز ہماری زمین کے چوتھائی حجم کے برابر ہے- اِن دو مختلف بیانات میںسے کون سا بیان درست ہے- اِس کو جاننے کے لیے ہمارے پاس ایک قابلِ اعتماد معیار (criterion) موجود ہے- یہ سائنٹفک معیار ہے- اِس سائنٹفک معیار کو منطبق کرکے ہم حتمی طورپر معلوم کرسکتے ہیں کہ دونوں میںسے پہلا بیان نادرست ہے اور صرف دوسرا بیان درست ہے-

اب دوسری مثال لیجئے- فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) نے کہا تھا کہ — میں سوچتا ہوں، اِس لیے میں ہوں:

I think, therefore, I exist.

وجودی فلسفہ (existentialism) کے بانی جین پال سارترے (Jean Paul Sartre) نے اِس تصور کو الٹ دیا- اس نے کہا کہ — میں ہوں، اِس لیے میں سوچتا ہوں:other source

I exist, therefore, I think.

ڈیکارٹ اور سارترے کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں- پھر کیسے فیصلہ کیا جائے کہ دونوں میں سے کون سا بیان د رست ہے اور کون سا بیان درست نہیں- اِس دوسری مثال کے معاملے میں سائنٹفک معیا ر قابلِ انطباق نہیں- تاہم یہاں ایک اور متبادل معیار موجود ہے جس کو منطبق کرکے ہم اِس دوسرے معاملے میں بھی درست جواب حاصل کرسکتے ہیں-

برٹرنڈرسل (وفات: 1970) نے درست طورپر لکھا ہےکہ علم کی دو قسمیں ہیں — چیزوں کا علم (knowledge of things) ، اور سچائیوں کا علم (knowledge of truths) - چیزوں کے علم کے معاملے میں ہمیشہ فزیکل کرائٹیرین (physical criterion)قابلِ انطباق (applicable) ہوتا ہے- لیکن جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، اُس میں فزیکل کرائٹیرین قابلِ انطباق نہیں- تاہم سچائی کے علم کے معاملے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور کرائٹیرین موجود ہے، وہ ترجیح (preference) کا کرائٹیرین ہے، یعنی دو امکانات میں سے کسی ایک امکان کو اضافی قرینہ کی بنیاد پر ترجیح دینا-original + quote

مذکورہ فلسفیانہ بحث میں ہمارے سامنے دو رائیں (proposition) موجود ہیں- ایک، ڈیکارٹ اور دوسرے، سارترے کی رائے- دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں انسانی زندگی کی کوئی با معنی توجیہہ نہیں ملتی- اِس اعتبار سے، دونوں کے اوپر البرٹ کامو (Albert Camus)کا تبصرہ یکساں طورپر صادق آتا ہے- اُس نے انسانی زندگی کے بارے میں کہا کہ — ہم سب اِس لغو دنیا میں کیوں ہیں ، کیا صرف مرنے کے لیے-original + quote

ڈیکارٹ اور سارترے کے مذکورہ اقوال اِس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ انسانی وجود کا مقصد کیا ہے- انسان کس طرح اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے- موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا- ایسی حالت میں اُس دوسری رائے کو ترجیح کے اصول کی بنیاد پردرست مانا جائے گا جس میں انسانی زندگی کی بامعنی توجیہہ پائی جاتی ہو- یہ رائے وہی ہے جو وحی (revelation) کے ذریعے معلوم ہوتی ہے- یہ رائے زندگی کی بامعنی توجیہہ پیش کرتی ہے اور یہ معنویت اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہی رائے درست ہے-original + quote

وحی پر مبنی اِس رائے کے مطابق، اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ — میں ایک خالق کی تخلیق ہوں- یہی خالق ہے جس نے مجھ کو وجود دیا ہے- یہی خالق ہے جس نے مجھ کو سوچنے کی طاقت دی ہے- اِس خالق کی رحمت کے بغیر میرا کوئی وجود نہیں:

I am a creation of a Creator. It was this Creator Who gave me existence. It was this Creator Who gave me thinking power. I was nothing without the blessing of this Creator.