← back to tawakkul · Al-Risala September 2014

عقیدہ آخرت کی طاقت

Al-Risala September 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - September 2014
  2. خدا کا اشارہ پڑھئے
  3. معرفت اور عبادت
  4. سکینہ کیا ہے
  5. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  6. دلیل، الزام تراشی
  7. توکل کی حقیقت
  8. شاکلۂ انسانی کا مسئلہ
  9. آبا پرستی
  10. اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن
  11. وحدت، تنوع
  12. الاخوان المسلمون
  13. کائنات کی توجیہ
  14. کائنات کی وسعت
  15. زندگی اور موت
  16. سبق کی اہمیت
  17. آخرت سے غفلت کیوں؟
  18. عقیدہ آخرت کی طاقت
  19. علم ومعرفت کا حریص
  20. منصوبۂ خداوندی
  21. جانچنے کا معیار
  22. خیر ِ امت یا زوال یافتہ امت
  23. ذاتی عقل، علمی عقل
  24. انسانی وجود کی با معنی توجیہ
  25. مسلم فلسفہ، مسلم الہیات
  26. زندگی کی حقیقت
  27. علمی طرزِ استدلال
  28. علم کی دوقسمیں
  29. سوال وجواب

عقیدہ آخرت کی طاقت

قدیم عراق کا سلجوقی حکمراں ملک شاہ (وفات: 1092ء) کا ایک واقعہ ہے- ایک دن ملک شاہ گھوڑے پر سوار ہو کر ایک پل سے گزر رہا تھا - اس کے سامنے ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگئی- اس کے لڑکے کو ملک شاہ کے کسی سپاہی نے بیگار کے طورپر پکڑ لیا تھا- بوڑھی عورت نے سلطان کو مخاطب کرتے ہوئے اس سے فریاد کی اور کہا کہ تمھارا ایک سپاہی میرے لڑکے کو بلاوجہ پکڑ لے گیا ہے، سلطان نے کہا کہ تم دربار میں استغاثہ پیش کرو- بوڑھی عور ت نے کہا کہ ملک شاہ! میرا فیصلہ تم کو اِسی وقت اور اِسی پل پر کرنا ہوگا، یا پھر کل اُس پل (پل صراط) پر فیصلہ ہوگا- بوڑھی عورت کی یہ بات سن کر سلطان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور اس نے اُسی وقت اس کی فریاد رسی کی- (مجلہ الشارق، اعظم گڑھ، مارچ، اپریل 2014)original + quote

آخرت کا عقیدہ بلا شبہہ تمام دوسرے عقائد سے زیادہ بڑا انقلابی عقیدہ ہے- جس آدمی کو آخرت کی دریافت ہوجائے، وہ اِس عقیدے کی دریافت کے بعد ویسا نہیں رہے گا جیسا کہ وہ اِس عقیدے کی دریافت سے پہلے تھا- آخرت کی دریافت کا واقعہ اس کے لیے ایک بھونچال بن جائے گا- اِس دریافت کے لازمی نتیجے کے طورپر اس کی سوچ بدل جائے گی، اس کا مزاج بدل جائے گا، اس کے بولنے کا انداز بدل جائے گا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک بدل جائے گا، غرض، زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جائے گا-

اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ایک ایسا معاشرہ تیار کیا جائے، جس کے افراد آخرت کے عقیدے پر زندہ یقین رکھتے ہوں، تو ایسے معاشرے کے ہر فرد کے پاس ایک ایسی طاقت ہوگی جو بظاہر دکھائی نہیں دے گی، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ایک ناقابلِ تسخیر طاقت ہوگی- ایسے معاشرے میں کسی آدمی کو آخرت کی عدالت کی یاد دلانا اُس کے لیے گن اور بم سے زیادہ موثر ہوگا- آخرت کا عقیدہ ایک کمزور آدمی کو بھی سب سے بڑی طاقت کا مالک بنا دیتا ہے-