← back to tawakkul · Al-Risala September 2014

دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

Al-Risala September 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - September 2014
  2. خدا کا اشارہ پڑھئے
  3. معرفت اور عبادت
  4. سکینہ کیا ہے
  5. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  6. دلیل، الزام تراشی
  7. توکل کی حقیقت
  8. شاکلۂ انسانی کا مسئلہ
  9. آبا پرستی
  10. اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن
  11. وحدت، تنوع
  12. الاخوان المسلمون
  13. کائنات کی توجیہ
  14. کائنات کی وسعت
  15. زندگی اور موت
  16. سبق کی اہمیت
  17. آخرت سے غفلت کیوں؟
  18. عقیدہ آخرت کی طاقت
  19. علم ومعرفت کا حریص
  20. منصوبۂ خداوندی
  21. جانچنے کا معیار
  22. خیر ِ امت یا زوال یافتہ امت
  23. ذاتی عقل، علمی عقل
  24. انسانی وجود کی با معنی توجیہ
  25. مسلم فلسفہ، مسلم الہیات
  26. زندگی کی حقیقت
  27. علمی طرزِ استدلال
  28. علم کی دوقسمیں
  29. سوال وجواب

دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے: مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ۭ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (3:67) یعنی ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی، بلکہ وہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا-quoted source

قرآن کی اِس آیت کا مقصد حضرت ابراہیم کی براءت نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد یہ بتانا نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی یا مشرک نہ تھے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہودی، نصرانی یا مشرک، تینوں گروہ جو حضرت ابراہیم کو اپنے اکابر میں شمار کرتے تھے اور یہ کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں، اُن کا ایسا سمجھنا ہرگز درست نہیں۔unverified

اپنے دورِ زوال میں انھوں نے یہ کیا کہ خود ساختہ طورپر اپنے مذہب کا ایک ماڈل بنا لیا۔ وہ درحقیقت اپنے خود ساختہ مذہبی ماڈل پر قائم تھے، لیکن غلط طور پر وہ اس کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کیے ہوئے تھے۔ اِس طرح غلط انتساب کے ذریعے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ جس مذہب پر ہیں، وہ وہی مذہب ہے جو اپنے زمانے میں حضرت ابراہیم کا مذہب تھا-

کسی امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو اس کے اندر ہمیشہ یہی نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں- اِس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں- موجودہ زمانے میں مسلم امت کا بھی یہی حال ہوا ہے- انھوں نے خدا کے دین کا ایک خود ساختہ ایڈیشن تیار کیا ہواہے-

یہ ماڈل ایک قومی ماڈل ہے، نہ کہ پیغمبرانہ ماڈل- صرفلفظی انتساب کے ذریعے وہ اِس ماڈل کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں، حالاں کہ اُن کے اِس قومی ماڈل کا پیغمبر کے ماڈل سے کوئی تعلق نہیں- کسی امت کے اندر بعد کے زمانے میں یہ مزاج اپنی قومی روش کی تبریر (justification) کی بنا پر پیدا ہوتا ہے- وہ اِس لیے پیدا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی قومی روش کو عین پیغمبرانہ روش ثابت کرسکیں-