Al-Risala October 2012

سُستی کی شکایت

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

سُستی کی شکایت

ایک صاحب نے کہا کہ میرے اندر سستی (laziness) بہت زیادہ ہے۔ جب میں کتاب کا مطالعہ کرتاہوں تو جلد ہی اکتاہٹ (boredom) پیدا ہوجاتی ہے اور میں کتاب کو بند کرکے رکھ دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کیا اُس وقت بھی آپ کے اندر یہی سستی پیدا ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اصل مسئلہ سستی کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ انٹرسٹ (interest) کا ہے۔ آپ کو سنجیدہ مطالعہ یا سنجیدہ غور وفکر سے دلچسپی نہیں۔ آپ تفریح کو پسند کرتے ہیں، اِسی لیے آپ کو سنجیدہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سستی آجاتی ہے، لیکن جب آپ اپنے بچوں یا اپنے دوستوں میں ہوتے ہیںتو اُس وقت آپ کو سستی نہیںآتی۔original + quote

میں نے کہا کہ یہ کسی فطری کمزوری کی بات نہیں۔ یہ آپ کے طرزِ فکر کا معاملہ ہے۔ آپ اپنے طرز فکر کو بدلئے۔ اہم اور غیر اہم کے معاملے میں آپ اپنی سوچ پر نظر ثانی کیجئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ اپنے ذہن کی ری انجینئرنگ (re-engineering of mind) کیجئے۔

میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے یہ جانیے کہ وقت کے استعمال کا معیار کیا ہے۔ وہ کون سا پیمانہ ہے جس سے ناپ کر ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔ وہ پیمانہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے علم (learning) میں اضافہ ہو، آپ کوئی حکمت (wisdom) کی بات دریافت کرسکیں۔ اِس لحاظ سے اگر آپ جانچیں تو آپ پائیں گے کہ ایک گھنٹہ اگر آپ نے کسی سنجیدہ کتاب کے مطالعے میں صرف کیا تو اُس سے آپ کو کوئی نہ کوئی حکمت کی بات ملے گی۔ اس کے برعکس، اگر آپ سطحی تفریحات میں ایک گھنٹہ گزاریں تو اس کے ذریعے آپ کوئی حکمت کی بات جاننے میں ناکام رہیں گے۔ میںنے کہا کہ آپ اِس اصول کو لے کر اپنے اوقات کی تنظیم کیجئے۔ وقت کے اُسی استعمال کو درست سمجھئے جس کے ذریعے آپ کو اپنے ذہنی ارتقا میں مدد ملی ہو۔ یہی محاسبہ ہے اور اسی کے ذریعے آپ اپنے کو وقت اور توانائی کے ضیاع سے بچا سکتے ہیں۔