Al-Risala October 2012

یہ بے خبرانسان

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

یہ بے خبرانسان

راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری (بالی ووڈ) سے تعلق رکھتے تھے- وہ پہلی فلمی شخصیت ہیں جن کو سپر اسٹار (super star) کا ٹائٹل دیاگیا- جس زمانے میں راجیش کھنہ اپنے پروفیشن میں عروج پر تھے، انھوں نے کہا تھا کہ — میں خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی ہوں:

Being at the top, Rajesh Khanna once said, is a feeling of being next to God.other source

عجیب بات ہے کہ جس سال راجیش کھنہ کی پیدائش ہوئی، اُسی سال مشہور امریکی باکسر محمد علی کلے(Muhammad Ali Clay) کی پیدائش ہوئی، یعنی 1942 میں- محمد علی کلے کو باکسنگ (boxing) میں بہت بڑا درجہ ملا- وہ باکسنگ کے عالمی چیمپین بن گئے- اُس وقت انھوں نے کہا تھا کہ — میں بادشاہِ عالم ہوں، میں سب سے بڑا ہوں:original + quote

I am the king of the world, I am the greatest.

مگر دونوں کا انجام یکساں طورپر برعکس صورت میں ہوا- راجیش کھنہ لمبی بیماری کے نتیجے میں آخرکار ہڈی کا ڈھانچہ بن گئے اور صرف 69 سال کی عمر میں18 جولائی 2012 کو ان کا انتقال ہوگیا- محمد علی کلے ابھی زندہ ہیں، لیکن طویل مدت سے وہ پارکنسن کی بیماری (Parkinson's syndrome) میں مبتلا ہیں- اب وہ بالکل معذور (disabled) ہو کر وھیل چیر پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں-

یہی ہمیشہ سے انسان کا حال رہا ہے- جب بھی کسی کو غیر معمولی حیثیت یا کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو قرآن کے الفاظ میں، وہ ’أکرمن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتاہے- وہ خدا کا شکر کرنے کے بجائے اپنے آپ کو خدا کا ہم سر سمجھ لیتا ہے- تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ حقیر ہو کر مرتے ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ بعد کے انسان پچھلے انسانوں کے انجام سے سبق نہیں لیتے-original + quote