Al-Risala October 2012

حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری

ترکی کی ’’جامع سلیمانیہ‘‘ ایک مشہور تاریخی مسجد ہے- اس کو ترکی کے مشہور عثمانی خلیفہ سلیمان اعظم نے سولھویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا تھا- اِس مسجد کی تعمیر میں دنیا کے مختلف مقامات کے قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں- کہاجاتا ہے کہ یہ پتھر دور کے مقام سے بیل گاڑیوں پر رکھ کر یہاں لائے جاتے تھے- بعض مرتبہ زیادہ وزنی پتھروں کو منتقل کرنے کے لیے بیلوں کی دس جوڑیوں پر مشتمل بیل گاڑیاں استعمال کی جاتی تھیں-

یہ حیوانی بار برداری کے زمانے کا واقعہ ہے- اب ہم ایک نئے دور میں ہیں- اِس نئے دور کو مشینی بار برداری کا دور کہا جاسکتا ہے- دور کی اِس تبدیلی نے انسان کے لیے غیر معمولی سہولتیں پیدا کردی ہیں- اِن نئی سہولتوں کا مزید پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانے میں دس جوڑیوں کے بیل سے چلنے والی گاڑی کا استعمال صرف کسی بادشاہ کے لئے ممکن ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں مشینی بار برداری سے فائدہ اٹھانا ہر عورت اورمرد کے لیے ممکن ہوگیاہے-

موجودہ زمانے میں انسان کے لیے غیر معمولی نوعیت کی جو عمومی سہولتیں پیداہوئی ہیں، مذکورہ واقعہ اِس نوعیت کی صرف ایک چھوٹی مثال ہے- موجودہ زمانہ گویا سہولتوں کے انفجار (explosion) کا زمانہ ہے- موجودہ زمانے میںمختلف نوعیت کی بے شمار سہولتیں وجود میں آئی ہیں- ہر آدمی ان سہولتوں کو دیکھتا ہے اور ان کا تجربہ کرتاہے- یہ سہولتیں ہر آدمی کے لیے پوری طرح ایک معلوم واقعہ ہیں- مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں کی زبان پر نہ اُن انسانوں کا اعتراف ہے جنھوں نے غیر معمولی محنت کے بعد ان سہولتوں کو واقعہ بنایا اور نہ لوگوں کی زبان پر اُس خالق کا اعتراف دکھائی دیتاہے جس نے موجودہ دنیا میں یہ امکانات رکھے تھے، تاکہ کچھ انسان اٹھیں اور اِن امکانات کو واقعہ بنادیں — جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں، وہ خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا (من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ)-original + quote