Al-Risala May 2016

وزڈم میگزین

Al-Risala May 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2016
  2. قرآن کی تعلیم
  3. استقامت کا حکم
  4. جنت کی مجلسیں
  5. جاہلوں سے اعراض
  6. علم کی اہمیت
  7. خوش قسمت انسان
  8. مومنانہ غوروفکر
  9. آسان فارمولا
  10. غلط سوچ
  11. ذہنی ارتقا
  12. تنقید یا الزام تراشی
  13. سوچنے کا ماڈل
  14. ذاتی عقل، علمی عقل
  15. حکمت کا راز
  16. اختلاف کا معاملہ
  17. مدح، تنقید
  18. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  19. کنٹری بیوشن کا سوال
  20. غلطی کا اعتراف
  21. توبہ کا عمل
  22. منفی سوچ کا مزاج
  23. اختلاف ایک برکت
  24. نیت، بصیرت
  25. عورت اور مرد
  26. خوشگوار تعلق کا راز
  27. انسان کا عجز
  28. ممکن ، ناممکن
  29. وزڈم میگزین
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

وزڈم میگزین

ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ اس وقت دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ماہنامہ الرسالہ پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آپ کا میگزین چلنے والا نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا میگزین ایک سجسٹیو (suggestive) میگزین ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف ایسے میگزین کو چاہتا ہے جو انفارمیٹیو (informative) میگزین ہو۔ واقعات نے بتایا کہ مذکورہ مسلمان کی رائے درست نہ تھی۔ انھوں نے ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking)کے تحت اپنا تبصرہ کیا تھا۔ ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا یہاں میگزین کی ایک تیسری صورت بھی ہے، جس پر ان کا تبصرہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے وزڈم میگزین (wisdom magazine) ۔ وزڈم میگزین ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں جاری کیا جائے۔original + quote

وزڈم کا مطلب دانش یا حکمت ہے۔ مثلاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انجنیر ہیں۔ اور ایک یوروپین کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ ان کے پاس رہنے کے لیے ذاتی فلیٹ ہے۔ سواری کے لیے کار ہے۔ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنی کی سروس کی بنا پر ہے۔ لیکن گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی کمپنی کی شکایت کی ۔ انھوں نے کہا کہ کمپنی میں ایک امتیاز (discrimination) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے یہاں انڈین کی تنخواہ کم ہوتی ہے، اور وائٹ یوروپین کی تنخواہ بہت زیادہ۔

میں نے کہا کہ آپ کی شکایت درست نہیں۔ آپ غلط تقابل (wrong comparison) کا شکار ہیں۔ آپ یورپین کمپنی کا تقابل انڈین کمپنی سے کررہے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کو ایک انڈین کمپنی کا تقابل دوسری انڈین کمپنی سے کرنا چاہیے۔اگر آپ صحیح تقابل(right comparison) کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کی شکایت ختم ہوجائے گی۔ یہ وزڈم کی بات ہے۔ لوگوں کے اندر عام طور پر یہ وزڈم نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ شکایت میں جیتے ہیں۔ ایسے حالت میں لوگوں کو ایک ایسے میگزین کی ضرورت ہے جو ان کے معاملات میں وزڈم کی بات بتائے۔