Al-Risala May 2016

ممکن ، ناممکن

Al-Risala May 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2016
  2. قرآن کی تعلیم
  3. استقامت کا حکم
  4. جنت کی مجلسیں
  5. جاہلوں سے اعراض
  6. علم کی اہمیت
  7. خوش قسمت انسان
  8. مومنانہ غوروفکر
  9. آسان فارمولا
  10. غلط سوچ
  11. ذہنی ارتقا
  12. تنقید یا الزام تراشی
  13. سوچنے کا ماڈل
  14. ذاتی عقل، علمی عقل
  15. حکمت کا راز
  16. اختلاف کا معاملہ
  17. مدح، تنقید
  18. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  19. کنٹری بیوشن کا سوال
  20. غلطی کا اعتراف
  21. توبہ کا عمل
  22. منفی سوچ کا مزاج
  23. اختلاف ایک برکت
  24. نیت، بصیرت
  25. عورت اور مرد
  26. خوشگوار تعلق کا راز
  27. انسان کا عجز
  28. ممکن ، ناممکن
  29. وزڈم میگزین
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

ممکن ، ناممکن

آپ جس عورت یا مرد سے ملیں، ہر ایک کو اندر سے غم گین (sad) پائیں گے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کا حقیقت پسند (realist)نہ ہونا۔ لوگ عام طور پر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں وہ صرف اس چیز کو پاسکتے ہیں جو فطرت کے قانون کے مطابق ان کے لیے ممکن الحصول ہو، فطرت کے قانون کے مطابق جو چیز ان کے لیے ممکن الحصول نہ ہو، وہ ان کو ملنے والی ہی نہیں۔

اس حقیقت سےبے خبری کی بنا پر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ وہ ایسی چیز کے حصول کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں جو حقیقت کے اعتبار سے ان کو ملنے والی ہی نہ تھی۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جانے اور وہ اپنی زندگی کا منصوبہ اس کے مطابق بنائے تو وہ اپنی زندگی کو یقینا زیادہ کار آمد بنا سکتا ہے۔

ہر آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ دنیا کا نظام خالق کے مقرر کردہ قانونِ فطرت پر چل رہا ہے۔ یہ قانون کسی کے لیے بھی بدلنے والا نہیں۔ اس لیے ہر آدمی کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو دریافت کرے، اور اپنی زندگی کا نقشہ اس کے مطابق بنائے۔ کوئی بھی شخص جو ایسا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔

ایک جرمن مدبر نے درست طور پر کہا ہے کہ — سیاست ممکن کا کھیل ہے۔other source

Politics is the art of the possible

یہ اصول صرف سیاست کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے لیے ہے۔ جو شخص ایک ایسی چیز کو اپنا نشانہ بنائے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو ملنے والی نہیں ہے، وہ یقینا ناکام ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص ممکن دائرے میں اپنا منصوبہ بنائے گا، وہ یقینا کامیابی کا مرتبہ حاصل کرے گا۔