Al-Risala May 2016

جاہلوں سے اعراض

Al-Risala May 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2016
  2. قرآن کی تعلیم
  3. استقامت کا حکم
  4. جنت کی مجلسیں
  5. جاہلوں سے اعراض
  6. علم کی اہمیت
  7. خوش قسمت انسان
  8. مومنانہ غوروفکر
  9. آسان فارمولا
  10. غلط سوچ
  11. ذہنی ارتقا
  12. تنقید یا الزام تراشی
  13. سوچنے کا ماڈل
  14. ذاتی عقل، علمی عقل
  15. حکمت کا راز
  16. اختلاف کا معاملہ
  17. مدح، تنقید
  18. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  19. کنٹری بیوشن کا سوال
  20. غلطی کا اعتراف
  21. توبہ کا عمل
  22. منفی سوچ کا مزاج
  23. اختلاف ایک برکت
  24. نیت، بصیرت
  25. عورت اور مرد
  26. خوشگوار تعلق کا راز
  27. انسان کا عجز
  28. ممکن ، ناممکن
  29. وزڈم میگزین
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

جاہلوں سے اعراض

اسلام کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن میں جاہلوں سے اعراض کہا گیا ہے(الاعراف199 )۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے قدم على رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وہو بمکة، عشرون رجلا أو قریب من ذلک من النصارى، حین بلغہم خبرہ من الحبشة، فوجدوہ فی المسجد، فجلسوا إلیہ وکلموہ وسألوہ، ورجال من قریش فی أندیتہم حول الکعبة، فلما فرغوا من مسألة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عما أرادوا، دعاہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم إلى اللہ عز وجل وتلا علیہم القرآن. فلما سمعواا لقرآن فاضت أعینہم من الدمع، ثم استجابوا للہ ، وآمنوا بہ وصدقوہ، وعرفوا منہ ما کان یوصف لہم فی کتابہم من أمرہ. فلما قاموا عنہ اعترضہم أبو جہل ابن ہشام فی نفر من قریش، فقالوا لہم: خیبکم اللہ من رکب! بعثکم من وراءکم من أہل دینکم ترتادون لہم لتأتوہم بخبر الرجل، فلم تطمئن مجالسکم عندہ، حتى فارقتم دینکم وصدقتموہ بما قال، ما نعلم رکبا أحمق منکم. أو کما قالوا. فقالوا لہم:سلام علیکم، لا نجاہلکم، لنا ما نحن علیہ، ولکم ما أنتم علیہ، لم نأل أنفسنا خیرا۔ (سیرۃ ابن ہشام، طبعۃ مصر، 1955، 1/391-92)unverified

اس واقعے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس کچھ نصرانی لوگ حبش سے آئے تھے۔ انھوں نے آپ کی باتیں سنیں، پھر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ جب وہ رسول اللہ کی صحبت سے نکلے تو ان کی ملاقات ابوجہل سے ہوگئی۔ ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم لوگ بہت احمق ہو، تم لوگوں نے اس شخص کی بات سنی ، اور پھر اس کے مومن بن گئے۔ تم کچھ لوگوں کے نمائندہ بن کر آئے تھے، تم کو اس شخص کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیے تھا اور جا کر اپنے لوگوں کو بتانا چاہیے تھا۔ انھوں نےجواب میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اعراض کا فلسفہ نہیں بتایا تھا۔ لیکن انھوں نے خود سے اعراض کے طریقے پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان آدمی کے اندر ذہنی بیداری لاتا ہے، آدمی کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (intellectual thinking) کہا جاتا ہے۔original + quote