Al-Risala May 2016

غلطی کا اعتراف

Al-Risala May 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2016
  2. قرآن کی تعلیم
  3. استقامت کا حکم
  4. جنت کی مجلسیں
  5. جاہلوں سے اعراض
  6. علم کی اہمیت
  7. خوش قسمت انسان
  8. مومنانہ غوروفکر
  9. آسان فارمولا
  10. غلط سوچ
  11. ذہنی ارتقا
  12. تنقید یا الزام تراشی
  13. سوچنے کا ماڈل
  14. ذاتی عقل، علمی عقل
  15. حکمت کا راز
  16. اختلاف کا معاملہ
  17. مدح، تنقید
  18. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  19. کنٹری بیوشن کا سوال
  20. غلطی کا اعتراف
  21. توبہ کا عمل
  22. منفی سوچ کا مزاج
  23. اختلاف ایک برکت
  24. نیت، بصیرت
  25. عورت اور مرد
  26. خوشگوار تعلق کا راز
  27. انسان کا عجز
  28. ممکن ، ناممکن
  29. وزڈم میگزین
  30. سوال و جواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

غلطی کا اعتراف

اگر کسی سے معاملہ کرتے ہوئے، آپ سے کوئی غلطی ہوجائے۔ اس کے بعد آپ شرمندہ ہوں، اور فوراً یہ کہہ دیں کہ بھائی صاحب، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھ کو معاف کردیجیے:

Sorry, I was wrong !

اگر آپ ایسا کہیں۔ تو آپ کی طرف سے یہ غلطی پر معافی مانگنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے شخص کے لیےوہ اس کے ضمیر (conscience) کو جگانے کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے کہتا ہے کہ دوسرے شخص نے شرافت کا ثبوت دیا ہے۔ تم کو بھی اسی طرح شرافت کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے تو تم کو بھی اس کے ساتھ اسی درجے کا کوئی معاملہ کرنا چاہیے۔

غلطی کی معافی مانگنا بظاہر ایک پسپائی کا معاملہ ہے۔ لیکن انسانی نفسیات کے اعتبار سے وہ اقدام کا ایک معاملہ ہے۔ معافی مانگنے والااپنے شرافت کا ثبوت دے کر فریقِ ثانی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ شرافت کا ثبوت دے۔ تاکہ لوگوں کی نظر میں اور خود اپنی نظر میں وہ کم تر ثابت نہ ہو۔

غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، معاملے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کرنا معاملےکو ختم کردیتا ہے۔ ایک واقعہ جو انسانوں کے درمیان نفرت کا سبب بن سکتا تھا، وہ دونوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتا ہے۔ آدمی نے غلطی کرکے جو کچھ کھویا تھا، وہ غلطی کا اعتراف کر کے اس سے بہت زیادہ پالیتا ہے۔

غلطی کرنے کے بعد ، اپنی غلطی کی صفائی پیش کرنا یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس کی غلطی ، غلطی نہیں تھی، صرف نادانی کاکام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد فوراً اپنی غلطی کومان لے۔ فورا اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا ایک موقعے کو کھونے کے ہم معنی ہے، ایک ایسا موقعہ جو دوبارہ کبھی آنے والا نہیں۔