Al-Risala May 2013

اپنے آپ کو پہچانیے

Al-Risala May 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - May 2013
  2. اہلِ جنت کی رفاقت
  3. بے نیازی کی نفسیات
  4. احبار ورہبان کی پیروی
  5. اللہ کی ایک سنت
  6. فطرت کا ایک اصول
  7. یہ اسلام نہیں
  8. مشرق اور مغرب
  9. حضرت ابراہیم کی امامت
  10. مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی
  11. خدا اور پیغمبر
  12. اپنے آپ کو پہچانیے
  13. حفاظت کا فارمولا
  14. کامیابی کس کے لیے
  15. سوال وجواب
  16. خبرنامہ اسلامی مرکز— 222

اپنے آپ کو پہچانیے

قدیم مدینہ میں ایک مشہور عالم ربیعہ بن فرّوخ التیمی (ربیعة الرأى) تھے- اُن کی وفات 136ہجری میں ہوئی- اُن کا ایک قول یہ ہے: لا ینبغی لأحد عندہ شیئ من العلم أن یضیّع نفسہ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم) یعنی کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس علم کا کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے آپ کو ضائع کردے-original + quote

ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر کوئی خاص صلاحیت ہوتی ہے-یہی صلاحیت اس کو دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی اِس خداداد صلاحیت کو پہچانےاور اس کو بھر پور طورپر استعمال کرے- اِسی میں انسان کی کامیابی کا راز بھی ہے اور اِسی میں انسان کی ناکامی کا راز بھی-

اِس معاملے میں انسان کی ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے - اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے حالات کے اعتبار سے، ہر آدمی کے اندر کسی چیز سے جذباتی لگاؤ(emotional attachment) پیدا ہوجاتا ہے- دھیرے دھیرے وہ اُس @چیز سے اتنا زیادہ وابستہ ہوجاتا ہے کہ وہی آدمی کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتاہے— کسی آدمی کو تفریحی باتوں سے دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے، کسی آدمی کو لذیذ کھانوں کا شوق ہوجاتا ہے، کوئی آدمی شہرت (fame)کا گرویدہ بن جاتاہے، کوئی آدمی دولت کی حرص میں جینے لگتا ہے، کسی آدمی کو یہ بات مرغوب ہوجاتی ہے کہ اس کے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ دکھائی دے، کسی آدمی کی پسند یہ بن جاتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کرتے رہیں، کسی آدمی کے اوپر اس کی عادتیں غالب آجاتی ہیں اور وہ اُن عادتوںسے باہر نہیں آپاتا، وغیرہ-

یہ سب غیر فطری جذبات ہیں- اِن میں سے کوئی بھی جذبہ اگر آدمی کے اوپر چھا جائے تو وہ اپنی خاص صلاحیت کو دریافت نہیں کرپائے گا- اور بالفرض اگر اُس کو اپنی خاص صلاحیت کا علم ہوجائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرپاتا کہ مضبوط ارادے کے تحت وہ اپنی عادتوں کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو اُس مقصد کے لیے استعمال کرے جس مقصد کے لیے خالق نے اس کو پیدا کیا ہے-