Al-Risala May 2013

احبار ورہبان کی پیروی

Al-Risala May 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - May 2013
  2. اہلِ جنت کی رفاقت
  3. بے نیازی کی نفسیات
  4. احبار ورہبان کی پیروی
  5. اللہ کی ایک سنت
  6. فطرت کا ایک اصول
  7. یہ اسلام نہیں
  8. مشرق اور مغرب
  9. حضرت ابراہیم کی امامت
  10. مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی
  11. خدا اور پیغمبر
  12. اپنے آپ کو پہچانیے
  13. حفاظت کا فارمولا
  14. کامیابی کس کے لیے
  15. سوال وجواب
  16. خبرنامہ اسلامی مرکز— 222

احبار ورہبان کی پیروی

قرآن کی سورہ التوبہ میں یہود ونصاری کے دورِ زوال کی ایک کمزوری کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے: اتخذوا أحبارہم ورُہبانہم أرباباً من دون اللہ(9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے علما اور مشائخ کو اپنا رب بنا ڈالا-original + quote

عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) عرب کے ایک عیسائی تھے- مدنی دور میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا- انھوں نے قرآن کی اِس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا- آپ نے اُن کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہود ونصاری کا یہ حال ہوگیا کہ اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام بتایا اور حرام کو حلال بتایا اور یہود ونصاری نےاس کو مان لیا- یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے کہ— انھوں نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب بنالیا-original + quote

یہ دراصل حاملِ کتاب امتوں کے دورِ زوال کا ایک ظاہرہ ہے- دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اُن کے لیے ان کے دین کا اصل ماخذ نہیں رہتی، بلکہ ان کے علما ومشائخ کے اقوال اُن کے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں- دورِ زوال سے پہلے افرادِ امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئاً من کتاب اللہ حتى أقول- لیکن جب دورِ زوال آتا ہے تو وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئا من أقوال العلماء حتى أقول- اِس طرح گویا دورِ زوال کا مطلب ہے — دین میں مرجع اور ماخذ کا بدل جانا(change in source of reference) -original + quote

موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا جو حال ہے، اُس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملت موجودہ زمانے میں عین اِسی حالت پر پہنچ چکی ہے- مسلمانوں کی تقریر وتحریر کو دیکھئے ، اُن کے اداروں میں جو کلچر رائج ہے، اس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان حقیقتاً قرآن وسنت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ عملاً وہ اپنے اکابر کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں-