Al-Risala May 2013

مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

Al-Risala May 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (16 chapters)
  1. الرسالہ - May 2013
  2. اہلِ جنت کی رفاقت
  3. بے نیازی کی نفسیات
  4. احبار ورہبان کی پیروی
  5. اللہ کی ایک سنت
  6. فطرت کا ایک اصول
  7. یہ اسلام نہیں
  8. مشرق اور مغرب
  9. حضرت ابراہیم کی امامت
  10. مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی
  11. خدا اور پیغمبر
  12. اپنے آپ کو پہچانیے
  13. حفاظت کا فارمولا
  14. کامیابی کس کے لیے
  15. سوال وجواب
  16. خبرنامہ اسلامی مرکز— 222

مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

کہا جاتاہے کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے، مگر یہ اصل واقعے کی صحیح تعبیر نہیں- صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہ(complete ideology) ہے- قرآن اور حدیث میں اسلام کی جو تبیین ملتی ہے، اُس سے یہی ثابت ہوتاہے کہ اسلام ایک مکمل آئڈیالوجی ہے- مکمل نظام کا تصور قرآن اور حدیث میں سرے سے اجنبی ہے-original + quote

دنیا میں ہم جن چیزوں سے واقف ہیں، وہ دو قسم کی ہوتی ہیں— ایک، وہ چیزیں جو مکان کی مانند ہیں- دوسری، وہ جو درخت کی مانند ہیں- مکمل کا لفظ مکان کے لیے بولنا درست ہے- جب کسی تعمیر کو مکمل مکان کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اندر مکان کے تمام اجزا پائے جاتے ہیں، اس کے اندر انسان کی تمام ضرورتوں کا انتظام موجود ہے- درخت کا معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے- بظاہر درخت میں مختلف اور متنوع اجزا ہوتے ہیں- مثلاً تنا اور شاخ اور پتے، وغیرہ- درخت کے ظاہرہ کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ درخت کی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- درخت کی اصل اس کا بیج ہے- جہاں بیج ہوگا، وہاں درخت ہوگا- اگر بیج نہ ہو اور تنا اور شاخ اور پتے کو جمع کردیا جائےگا تو اس سے کوئی درخت وجود میں آنے والا نہیں-قرآن ا ور حدیث کا مطالعہ بتاتاہے کہ دین کی اصل تقوی ہے، یعنی اللہ کو اپنے واحد کنسرن (sole-concern) کے طورپر دریافت کرنا، اللہ کو اِس طرح دریافت کرنا کہ وہی آدمی کے لیے اس کے خوف اور محبت کا مرکز بن جائے- تقوی ہوگا تواسلام ہوگا اور اگر تقوی نہ ہو تو اسلام بھی نہ ہوگا، نہ ناقص اور نہ مکمل- اِس لیے قرآن میں کلمہ ایمان کی مثال شجرہ (tree) سے دی گئی ہے (14:24)- درخت کی مانند دین میں بھی بظاہر مختلف اجزا ہوتے ہیں، لیکن درخت کی طرح دین کی بھی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- جہاں اصل کا وجود ہوگا، وہاں حسب حالات تفصیل کا بھی یقینی وجود ہوگا- ایسی حالت میں افراد کے اندر دینی زندگی پیدا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ داعی کا سارا فوکس اصل پر ہو،نہ کہ تفصیلات پر-unverified