Al-Risala May 2011

اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے

ایک ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اُن کو دوسروں سے شکایت تھی کہ وہ اُن کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ اِس معاملے میں غلطی آپ کی ہے، دوسروں کی غلطی نہیں۔ آپ اپنے کو اپنے پوٹیشیل (potential) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ کو آپ کے ایکچول (actual) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے، یعنی اپنے امکان کو واقعہ کی صورت دے دیجئے۔ اِس کے بعد آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔

یہی اکثر با صلاحیت لوگوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ وہ غیر ضروری طورپر دوسرے لوگوں کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیں کہ دوسروں کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں، مگر اِس طرح کے تمام معاملات میںاصل غلطی شکایت کرنے والے کی ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں اپنے امکان کو واقعہ بنانے سے ایک دن پہلے بھی لوگ کسی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اِس دنیا میں کوئی شخص اپنی امکانی صلاحیت کے اعتبار سے تسلیم نہیں کیا جاتا، دنیا اس کو صرف اُس وقت تسلیم کرتی ہے جب کہ اس نے اپنی امکانی صلاحیت کو مسلسل جدو جہد کے ذریعے ایک کھلا واقعہ بنا دیا ہو۔ لوگ عام طورپر ظاہر بیںہوتے ہیں۔وہ امکان کو دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف واقعہ کو دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی شکایت نہ کرے، بلکہ وہ قانونِ فطرت (law of nature) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کرے کہ اپنی ساری طاقت اپنے امکان کو واقعہ بنانے میں لگا دے۔ جس دن ایسا ہوگا، اُس دن لوگ کسی اعلان یا مطالبہ کے بغیر آپ کا اعتراف کرلیں گے۔

آدمی کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدل نہیں سکتا۔ اُس کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بدل کر، دوسروں کو بدل جانے پر مجبور کردے۔ یہی فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کسی کے لیے کوئی استثنا (exception) نہیں۔