Al-Risala May 2011

نماز کے فائدے

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

نماز کے فائدے

ایک صاحب نے کہا کہ قرآن کے مطابق، حقیقی نمازوہ ہے جو خشوع (spirit) کے ساتھ ادا کی جائے (21:1) ۔ میرے جیسے آدمی کو اکثر خشوع والی نماز حاصل نہیں ہوتی، پھر نماز پڑھنے سے کیا فائدہ۔ میں نے کہا کہ جس طرح خشوع والی نماز کا فائدہ ہے، اُسی طرح بے خشوع والی نماز کا بھی فائدہ ہے۔ دونوںہی یکساں طورپر مطلوب ہیں۔original + quote

آدمی اگر خشوع والی نماز پڑھے تو اس کو ایک اطمینان حاصل ہوگا۔ وہ خشوع والی نماز (worship with spirit) کا درجہ حاصل کرے گا۔ اِس کے مقابلے میں، اگر کوئی شخص خشوع کے بغیر نماز ادا کرتا ہے، تب بھی اس کا ایک عظیم فائدہ ہے، وہ یہ کہ وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کی نماز بے خشوع کی نماز (worship without spirit) تھی۔ ایسی نماز بھی فائدے سے خالی نہیں۔

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احساس کہ میں دین کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، یہ اپنے آپ میں ایک مطلوب احساس ہے۔ آدمی کا احساس اگر یہ ہوکہ میں نے دین کے تقاضے پورے کردئے، تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندرعُجب (pride) کا جذبہ پیدا ہو جائے، جو اس کی دین داری کو باطل کردے ۔ اِس کے برعکس، یہ احساس کہ میںنے بظاہر دین کے تقاضے تو پورے کئے، لیکن میرے اندر مطلوب اسپرٹ موجود نہ تھی۔ یہ احساس آدمی کے اندر عجز ا ور تواضع (modesty) کی کیفیت پیدا کرے گا، اور یہ ثابت ہے کہ عجز اور تواضع اپنے آپ میں ایک اعلیٰ ایمانی حالت ہے۔ عُجب کا احساس مواخذے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن عجز وتواضع ہر حال میں آدمی کو اجر کا مستحق بناتا ہے۔original + quote

مزید یہ کہ پانچ وقت کی نماز آدمی کے لیے ایک ریمائنڈر (reminder) کی حیثیت رکھتی ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد آدمی اپنے اِس احساس کو تازہ کرتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے اللہ کا فرماں بردار بن کر دنیا میں رہنا ہے۔ نماز اِسی قسم کی پنچ وقتہ عملی یاد دہانی ہے۔ نماز قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں، اپنے عجز ِتام کا علامتی اعتراف (symbolic acknowledgement) ہے۔