Al-Risala May 2011

قرآن کتابِ دعوت

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

قرآن کتابِ دعوت

قرآن ایک کتاب دعوت ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں جب قرآن اترا تو اُس وقت قرآن ہی دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے طریقِ تبلیغ کے متعلق روایات میں آتا ہے : عرض علیہم الاسلام، وتلا علیہم القرآن (انھوں نے اُن کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا کچھ حصہ ان کو پڑھ کر سنایا)۔original + quote

مگر عجیب بات ہے کہ بعد کے زمانے میں قرآن مسلمانوںکے درمیان کتابِ دعوت کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ مسلمان، قرآن کا عربی متن (text) برکت کے طورپر پڑھتے رہے۔ قرآن کے جو ترجمے کئے گئے، وہ بھی یا تو ثواب کے لیے کئے گئے، یا اِس ذہن کے تحت کہ مسلمان اس کو پڑھیں گے۔ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی اشاعت کے لیے غالباً قرآن کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔انگریزی زبان موجودہ زمانے میں انٹرنیشنل زبان سمجھی جاتی ہے۔ انگریزی زبان میں قرآن کے تقریباً 50 ترجمے موجود ہیں۔ مگر یہ انگریزی ترجمے مدعو فرینڈلی زبان (Mad‘u-friendly language) میں نہیں کئے گئے۔ چنانچہ غیر مسلم جب اِن ترجموں کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ عام انسان کے لیے قرآن سمجھ میں آنے والی کتاب نہیں۔

اِنھیں اسباب کی بنا پر لمبی کوشش کے بعد سی پی ایس (نئی دہلی) نے 2008 میں انگریزی زبان کا ایک نیا ترجمہ شائع کیا ہے۔ یہ ترجمہ ان شاء اللہ مدعو فرینڈلی زبان میں ہے۔ چناںچہ جن غیرمسلم حضرات تک یہ ترجمہ پہنچتا ہے، وہ اس کو شوق سے لیتے ہیں اور دلچسپی کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے قریب اِدخالِ کلمۂ اسلام کا عمل ہوگا، یعنی ہر گھر میں کلمۂ اسلام پہنچ جائے گا۔ اِس حدیث میںکلمۂ اسلام سے مرادخدا کی کتاب قرآن ہے۔ ادخال الکلمۃ فی کل البیوتسے مراد ادخال القرآن فی کلِ البیوتہے، یعنی ہر گھر میں قرآن کا پہنچ جانا۔ اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ادخالِ کلمہ کے اِس عمل میں اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ دعوتِ اسلام کا ایک ایسا طریقہ ہے جو بلاشبہہ ہر مسلمان کے لیے ممکن ہے، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔original + quote