Al-Risala May 2011

ایک سبق آموز واقعہ

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

ایک سبق آموز واقعہ

مولانا نور عالم خلیل امینی (استاد ادبِ عربی، دار العلوم، دیوبند) نے دیوبند کا ایک واقعہ اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:’’24 جولائی 2002 کو دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدوکوب کا معاملہ کیا۔ دار العلوم کے طلبا کی ایک تعداد نوجوانی کے جوش سے مغلوب ہو گئی اور اُن سے دارالعلوم کے چوراہے کی چند دکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا۔ متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اور انھوں نے حضرت مرحوم (مولانا مرغوب الرحمن قاسمی، مہتمم دار العلوم، دیوبند) سے بڑھا چڑھا کے اِس معاملے کی شکایت کی۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر دیجئے کہ آپ لوگوں کا واقعۃً کتنا اور کیا کیا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا — دیکھئے، دار العلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے، وہ دارالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے۔ یہ حقیر اُس کا امین ہے۔ اس میں کوئی خیانت اس کے لیے جائز نہیں، اِس لیے میں دار العلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دو مہینے کا موقع دیجئے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرسکوں۔ حضرت کی بات سن کر شہریوں کا وفد آب دیدہ ہوگیا اور اُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت، ہم لوگوںسے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اور آپ کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ دار العلوم جیسے آپ کا ہے، ویسے ہی وہ ہمارا بھی ہے‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 44 )۔unverified

حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی پیدائشی طورپر برا نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی شخص مذکورہ قسم کا کام کرتا ہے تو ایسا ہمیشہ وقتی جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ آپ اگر جوابی رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ گفتگو کریں تو عین ممکن ہے کہ فریقِ ثانی کو اپنے کام پر شرمندگی ہوجائے اور وہ خود ہی اپنا رویہ بدل لے— منفی رد عمل معاملے کو بگاڑ دیتا ہے، اور مثبت ردّ عمل معاملے کو درست کردیتا ہے۔