Al-Risala July 2014

اپنے آپ پر نظر ِثانی

Al-Risala July 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - July 2014
  2. خوش آمدید، خوش آمدید
  3. علم کی بادشاہت
  4. اعمال کا باطل ہونا
  5. شکایت، شکایت، شکایت
  6. دعوتِ عام کا حکم
  7. اختلاف کے باوجود
  8. مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق
  9. کامیاب طریقہ کار
  10. اولاد کا فتنہ
  11. عوامی جذبات کا استحصال
  12. قومی فخر نہیں
  13. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. مسلمان کی اصل حیثیت
  16. بااصول زندگی
  17. مسلمان عالمی محاصرےمیں
  18. جمہوریت کا دور
  19. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  20. پیغمبرانہ کردار
  21. فساد اور اسبابِ فساد
  22. صحیح نقطۂ آغاز
  23. اسلامی تحریک کا اصول
  24. کائنات کی معنویت
  25. تنظیم کافی نہیں
  26. ضرورت اور مقصد
  27. اپنے آپ پر نظر ِثانی
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

اپنے آپ پر نظر ِثانی

آسٹرین نیرولوجسٹ وکٹر فرینکل (1905-1997) کا ایک با معنی قول ہے- اُس نے انسان کے بارے میں کہا — جب ہم حالات کو بدلنے کے قابل نہیں ہوتے، تو یہ اِس بات کا چیلنج ہوتا ہے کہ ہمیں خود اپنے آپ کو بدلنا چاہیے:original + quote

When we are no longer able to change a situation—we are challenged to change ourselves. (Viktor Frankl)other source

ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جس تبدیلی کا منصوبہ بنایا تھا، اُس کے مطابق، میں حالات کو بدل نہ سکا- اِس قسم کا تجربہ جب کسی انسان کو پیش آئے تو اس کو کیا کرنا چاہیے-

اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی کا سبب باہر تلاش کرے- اِس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، وہ خارج کو بدلنے کی مزید کوشش نہ کرے- وہ یہ کرے کہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملے پر ازسرِ نو غور کرے اور پھر ممکن دائرے میں اپنے عمل کا نیا نقشہ بنائے-

روڈ پر چلتے ہوئے اگر کوئی شخص راستے سے بھٹک جائے تو وہ یوٹرن (U turn)لینے میں کبھی دیر نہیں کرتا- لیکن زندگی کے وسیع تر سفر میں بہت کم لوگ اس اصول کی پیروی کرتے ہیں- زندگی کے سفر میں اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک بار جس راستے پر چل پڑے، اُسی پر چلتے رہتے ہیں، حتی کی اگر ان کی غلطی کی نشان دہی کی جائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط سمت کو چھوڑ کر صحیح سمت میں وہ اپنا سفر شروع کردیں- وہ اپنے مانوس راستے ہی پر چلتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مرجاتے ہیں— غلطی کرنا غلطی نہیں ہے، بلکہ اصل غلطی یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کی اصلاح کرنے پر راضی نہ ہو-