Al-Risala July 2014

جمہوریت کا دور

Al-Risala July 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - July 2014
  2. خوش آمدید، خوش آمدید
  3. علم کی بادشاہت
  4. اعمال کا باطل ہونا
  5. شکایت، شکایت، شکایت
  6. دعوتِ عام کا حکم
  7. اختلاف کے باوجود
  8. مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق
  9. کامیاب طریقہ کار
  10. اولاد کا فتنہ
  11. عوامی جذبات کا استحصال
  12. قومی فخر نہیں
  13. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. مسلمان کی اصل حیثیت
  16. بااصول زندگی
  17. مسلمان عالمی محاصرےمیں
  18. جمہوریت کا دور
  19. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  20. پیغمبرانہ کردار
  21. فساد اور اسبابِ فساد
  22. صحیح نقطۂ آغاز
  23. اسلامی تحریک کا اصول
  24. کائنات کی معنویت
  25. تنظیم کافی نہیں
  26. ضرورت اور مقصد
  27. اپنے آپ پر نظر ِثانی
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

جمہوریت کا دور

1789میں یورپ میں وہ سیاسی انقلاب آیا جس کو فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کہاجاتا ہے- اِس انقلاب کے بعد دنیا ایک نیے سیاسی دور میں داخل ہوگئی، یعنی جمہوریت (democracy) کا دور- جمہوریت سے پہلے دنیا میں بادشاہت کا دور تھا، یعنی شخصی حکمرانی کا دور- اُس زمانے کی سیاسی مساوات (political equation) حاکم اور محکوم (ruler and ruled) کے اصول پر قائم تھی، لیکن جمہوریت کے دور میں یہ سیاسی مساوات ختم ہوگئی-جمہوریت کے نظام میں نہ کوئی حاکم ہوتا ہے اور نہ کوئی محکوم- اب حکومت کو عملاً حکومت نہیں کہاجاتا، بلکہ اس کو صرف انتظامیہ (administration)کہا جاتا ہے- کوئی انتظامیہ مستقل نہیں ہوتی، ہر چند سال کے بعد الیکشن کی بنیادپر انتظامیہ بدلتی رہتی ہے-

موجودہ زمانے کی جمہوریت سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے- اس اصول کے تحت موجودہ زمانے میں مذہبی امور کو مذہبی افراد یا مذہبی تنظیموں کے دائرے کا معاملہ قرار دے دیا گیا ہے- اُن کو آزادی ہےکہ وہ اپنے مذہبی معاملات کا انتظام جس طرح چاہیں کریں، صرف اِس شرط پر کہ وہ دوسروں کے ساتھ مداخلت یا تشدد کا معاملہ نہیں کریں گے-

جمہوری نظام میں حکومت کا تعلق صرف مشترک قومی امور سے ہوتا ہے- مثلاً اقتصادیات، شہری پلاننگ، انفراسٹرکچر، وغیرہ- جمہوریت کا یہ نظام مذہبی گروہوں کے لیے ایک عظیم نعمت ہے- مذہبی گروہ اگر مذہب کے دائرے میں رہے، وہ نزاعی سیاست کو اُس میں شامل نہ کرے، تو وہ ہر حال میں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرسکتا ہے- خواہ الیکشن میں کوئی ایک پارٹی جیتے یا دوسری پارٹی، انتظامی اعتبار سے وقتی طورپر کوئی ایک پارٹی اقتدار میں آئے یا دوسری پارٹی- جمہوریت کے زمانے میں اگر کوئی مذہبی گروہ کسی پرابلم سے دوچار ہوتا ہے تو وہ یقینی طورپر صرف ’’آبیل مجھے مار‘‘ کی ناعاقبت اندیشانہ سیاست کا نتیجہ ہوگا، نہ کہ خود جمہوری نظام کا نتیجہ-(16 مئی 2014)