Al-Risala July 2014

تنظیم کافی نہیں

Al-Risala July 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - July 2014
  2. خوش آمدید، خوش آمدید
  3. علم کی بادشاہت
  4. اعمال کا باطل ہونا
  5. شکایت، شکایت، شکایت
  6. دعوتِ عام کا حکم
  7. اختلاف کے باوجود
  8. مبنی بر فرد منصوبۂ تخلیق
  9. کامیاب طریقہ کار
  10. اولاد کا فتنہ
  11. عوامی جذبات کا استحصال
  12. قومی فخر نہیں
  13. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  14. سیکولرزم کیا ہے
  15. مسلمان کی اصل حیثیت
  16. بااصول زندگی
  17. مسلمان عالمی محاصرےمیں
  18. جمہوریت کا دور
  19. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
  20. پیغمبرانہ کردار
  21. فساد اور اسبابِ فساد
  22. صحیح نقطۂ آغاز
  23. اسلامی تحریک کا اصول
  24. کائنات کی معنویت
  25. تنظیم کافی نہیں
  26. ضرورت اور مقصد
  27. اپنے آپ پر نظر ِثانی
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 227

تنظیم کافی نہیں

تحریکوں کا یہ عام طریقہ ہے کہ لوگ ایک تنظیم بنا لیتے ہیں اور تنظیم کے تحت ایک طریقِ کار مقرر کرکے اس کے مطابق، اپنا کام شروع کردیتے ہیں- اِس طریقے کا یہ فائدہ ہے کہ کام بظاہر تسلسل کے ساتھ ہونے لگتا ہے- ہر فردِ تحریک کو معلوم ہوتا ہے کہ اُسے کیا کرنا ہے اور اِس معلوم نقشے کے مطابق، وہ اپنا مقرر کام ہر روز انجام دیتا رہتا ہے-

حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ایک منظم کام کہاجاتا ہے، وہ صرف ایک بے روح نظم (spiritless routine)کا اعادہ ہے- اِس طریقے میں بظاہر کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اس کے تحت افراد کا روحانی ارتقا (spiritual development) نہیں ہوتا- اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے، وہ جہاں پہلے دن تھے، وہیں وہ آخری دن بھی رہتے ہیں-

صحیح طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کی جائے- افرادِ تحریک محسوس کریں کہ ہر دن اُن کے اندر شخصی ارتقا(personality development) ہورہا ہے-

یہ مقصد صرف اُس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ افرادِ تحریک کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کی جائے- ہر آدمی خود سوچے، وہ خود اپنے عمل کا نقشہ بنائے، ہر انسان پروگرام ساز (programme maker) انسان بن جائے، نہ کہ بنے بنائے پروگرام کو بطور رُٹین (routine) دہرانے والا-

زندہ تحریک وہ ہے جس کے افراد ذاتی داعیہ کے تحت متحرک ہوئے ہوں، جن کے اندر شعوری بیداری اتنی زیادہ آچکی ہو کہ وہ آزادانہ طورپر سوچیں اور آزاد ارادے کے تحت اپنے آپ کو تحریک کے کام کے لیے وقف کردیں-

یہی وہ طریقہ ہے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ پیدا کرنے والا ہے- مقررہ پروگرام کے تحت کیا جانے والا عمل بظاہر عمل ہوتا ہے، لیکن وہ مطلوب نتیجے سے خالی ہوتا ہے-